نیپال کے سیلاب میں بہہ کر متعدد لاشیں بھارت پہنچنے کا خدشہ
تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے
نیپال میں سیلاب
نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک سیلاب سے تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے ۔ نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے ۔ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
وزارتِ تعلیم کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں، تقریباً 20 طلبہ ریلے میں بہہ گئے ۔
کھٹمنڈو میں کئی شہری اپنے لاپتہ عزیزوں کی تصاویر اس امید پر ہسپتال کی دیوار پر لگا رہے ہیں کہ شاید ان کا کوئی سراغ مل جائے۔دوسری جانب تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے میں امدادی کارکنوں نے اتنا بڑا سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے ذریعے اندر داخل ہو کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی جا سکتی ہے۔اب اس چھوٹے راستے سے اندر ہوا پہنچائی جا رہی ہے۔تاہم رات بھر بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ کھدائی کی جگہ پانی سے بھر گئی تھی لیکن بعد میں حالات بہتر ہونے پر امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتا افراد میں نو سو تینتیس ہائیڈرو پاور ورکرز بھی شامل ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ، امدادی ٹیمیں شدید کیچڑ، بڑھتے دریائی پانی اور لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی ایک نئی جھیل کے خطرے کے باوجود لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سینکڑوں افراد نیپال کے پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے کارکن ہیں۔لاپتہ افراد میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
خدشہ ہے کہ بہت سی لاشیں پانی کے ساتھ بہہ کر سرحد پار بھارت تک بھی پہنچ گئی ہوں۔
نیپالی حکام کے مطابق 589 غیر ملکی شہری بھی تاحال لاپتا ہیں، جن میں ٹریکرز کے علاوہ تبت میں مقدس کوہ کیلاش جانے والے ہندو زائرین بھی شامل ہیں۔
اتوار کو ایک اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں نئی جھیل بننے کے بعد تبت کی سرحد کے قریب کام کرنے والی چینی امدادی ٹیموں کو بھی حفاظتی مقام پر منتقل کیا گیا۔
چین کے زیرِ انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، 546 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اب تک کوئی شخص زندہ نہیں ملا۔ادھر،نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ تین اضلاع میں کم از کم 19 سکول متاثر ہوئے ہیں۔ کم از کم نو سکول مکمل طور پر تباہ اور سات دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے، کئی تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بیشترشدید متاثرہ سکول رسوا اور نواکوٹ اضلاع میں ہیں۔دونوں اضلاع کے کئی سکول، جہاں 2425 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، یا تو وہ سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے
دب گئے ہیں۔ایک سکول کی انتظامیہ سے ایک ذریعےنے بتایا کہ سیلاب ان کے سکول کی ایک بس بھی بہا لے گیا۔