مسجدِ اقصیٰ میں بن گویر کا دھاوا، یہودی عبادت گاہ بنانے کا عندیہ
ماضی میں اس مقام پر یہودیوں کے لیے مذہبی رسومات ادا کرنا سخت محدود تھا، تاہم اب وہ اسے ایک بڑی تبدیلی سمجھتے ہیں
مسجدِ اقصیٰ میں بن گویر کا دھاوا، یہودی عبادت گاہ بنانے کا عندیہ
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویراسرائیلی قابض فورسز کی سیکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے، جہاں انہوں نے یہودی مذہبی رسومات اور دعائیں ادا کیں۔
عرب میڈیا اور فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق بن گویر کے ہمراہ یہودی مذہبی پیشوا، آبادکار اور سیکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ کے مشرقی حصے میں یہودی مذہبی رسومات ادا کیں اور عبادت کی۔
اس موقع پر اتمار بن گویر نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں یہودی عبادت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں یہاں یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کی بات بھی کی۔
بن گویر کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس مقام پر یہودیوں کے لیے مذہبی رسومات ادا کرنا سخت محدود تھا، تاہم اب وہ اسے ایک بڑی تبدیلی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مذہبی دعاؤں اور دیگر رسومات کے ساتھ یہودی عبادت گاہ کے قیام کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
فلسطینی حکام کے مطابق مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے 1967ء سے قائم تاریخی انتظام کے تحت غیر مسلموں کو مسجد کے احاطے میں عبادت کی اجازت نہیں، تاہم انہیں مخصوص اوقات میں وہاں جانے کی اجازت حاصل ہے۔
اتمار بن گویر 2022ء میں وزیر برائے قومی سلامتی کا منصب سنبھالنے کے بعد متعدد مرتبہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں جاچکے ہیں۔ ان کے ایسے دوروں پر فلسطینی قیادت اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔
بن گویر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مقبوضہ علاقوں سے فلسطینی آبادی کے انخلا کے حامی رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی آبادکاروں کے بعض گروہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں یہودی عبادت گاہ کے قیام کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔
فلسطینی حکام نے تازہ واقعے کو مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ یروشلم گورنریٹ نے بن گویر کے دورے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات مسجد کے موجودہ اسلامی تشخص اور تاریخی انتظام کو تبدیل کرنے کی کوشش ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس 2003ء سے یہودی آبادکاروں کو مخصوص اوقات میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دیتی رہی ہے، جبکہ فلسطینی نمازیوں کو بھی مسجد میں داخلے کے حوالے سے مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کی حیثیت اور وہاں مذہبی رسومات کے معاملے پر فلسطینی اور اسرائیلی فریقین کے درمیان کشیدگی ایک حساس اور مسلسل تنازع کا حصہ ہے، جبکہ ایسے واقعات خطے میں مزید تناؤ کا باعث بنتے رہے ہیں۔