رات گئے اضافوں سے پیٹرول ساڑھے 3 سو کے قریب پہنچ گیا
پیٹرول 2.84 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.28 روپے فی لیٹر مہنگا
پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا
وفاقی حکومت نے جمعرات کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 2.84 روپے اور 2.28 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کر دیا ہے جو 4 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 4 ستمبر کے لیے پیٹرول کی نئی قیمت 349 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 374.31 روپے فی لیٹر ہوگی۔ یہ تازہ ترین ترمیم حکومت کی جانب سے 3 ستمبر کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 2.29 روپے اور 1.11 روپے فی لیٹر اضافے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ یاد رہے کہ 17 جولائی کو حکومت نے ایک نئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لے کر روزانہ کی بنیاد پر نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے، جس نے ہفتہ وار طریقہ کار کی جگہ لی ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ اور ایران کے درمیان تجدید کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹوں میں غیر مستحکم صورتحال اور ایندھن کی فراہمی کے بارے میں خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات ملک کی سب سے بڑی درآمدی کیٹیگریز میں شامل ہیں، جو معیشت کو عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس بناتی ہیں۔ ملکی ریفائنریز قومی طلب کا صرف ایک حصہ پورا کرتی ہیں جبکہ باقی ماندہ ضرورت خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات سے پوری کی جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر اضافہ پاکستان کے درآمدی بل میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ماضی میں پاکستان سبسڈی اور انتظامی مداخلت کے ذریعے پیٹرولیم کی قیمتوں پر نمایاں سرکاری کنٹرول رکھتا تھا۔ اگرچہ ان اقدامات نے عارضی طور پر صارفین کا تحفظ کیا لیکن اس سے خاطر خواہ مالیاتی اخراجات بھی آئے۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے صارفین تک قیمتوں میں اضافے کو منتقل کرنے میں تاخیر کی، جس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریز اور قومی بجٹ پر مالیاتی دباؤ پیدا ہوا۔ ایندھن پر دی جانے والی بڑی سبسڈی نے مالیاتی خسارے کو وسعت دی، عوامی قرضوں میں اضافہ کیا اور معاشی استحکام کو کمزور کیا۔ عالمی جغرافیائی سیاسی پیش رفت بدستور بڑے خطرات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی تیل کی قیمتیں اوپیک پلس کے فیصلوں، مشرق وسطیٰ کے تنازعات، تیل پیدا کرنے والے ممالک پر پابندیوں اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ ان سپلائی چینز میں کوئی بھی تعطل فوری طور پر خام تیل کی قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے یہ پیش رفت تیزی سے ملکی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ جمعرات کو ایران پر امریکی حملوں اور تہران کے خلاف اسرائیلی دھمکیوں کے بعد مشرق وسطیٰ کی سپلائی میں خلل کے خدشات بڑھنے سے تیل کی قیمتیں 6 ہفتوں کی نئی بلندی پر پہنچ گئیں۔ برینٹ خام تیل کے سودے 1.66 ڈالر یعنی 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 97.29 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 2.03 ڈالر یا 2.2 فیصد بڑھ کر 93.04 ڈالر ہو گئے۔ دونوں معاہدے اپنے چوتھے دن کے اضافے کی طرف گامزن تھے اور سیشن کے دوران 6 ہفتوں کی نئی بلندیوں کو چھو گئے۔ یو بی ایس کے انرجی تجزیہ کار جیووانی ستاونو کا کہنا تھا کہ تیل کی مارکیٹ اب بھی تنگ ہے، عالمی سطح پر تیل کے ذخایر اب بھی کم ہو رہے ہیں، جو کہ زیادہ قیمتوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بھی کچھ حمایت مل سکتی ہے۔