21 ممالک میں2 کروڑ بچے آن لائن جنسی استحصال کاشکار:یونیسیف

ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی میں تشویشناک اضافہ

September 4, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی نئی رپورٹ کے مطابق 21 ممالک میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ بچے ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوئے۔ یہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کا تقریباً ہر پانچواں بچہ ہے۔

تحقیق میں تقریباً 21 ہزار بچوں سے سروے کیا گیا، جبکہ متاثرہ نوجوانوں کے تفصیلی انٹرویوز بھی کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا یا بھیجا گیا، جبکہ تقریباً 90 لاکھ بچوں کو جنسی گفتگو یا تصاویر شیئر کرنے پر مجبور یا دباؤ کا سامنا ہوا۔

نصف سے زیادہ واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم واقعات حکام کو رپورٹ کیے گئے۔

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جعلی جنسی تصاویر بنانے کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یونیسیف نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے پلیٹ فارم ڈیزائن، رپورٹنگ نظام اور قوانین کو مزید مضبوط کیا جائے۔