صوبہ ہزارہ کے لیے قومی اسمبلی میں بل آرہاہے:سردار محمد یوسف

کیس تیار، صوبائی اسمبلی قرارداد منظور کرچکی ہے

September 4, 2026 · قومی

فائل فوٹو

چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں، ہزارہ کا کیس تیار ہے اور اسے فوری صوبہ بنا دینا چاہیے۔ پیپلزپارٹی سمیت قومی قیادت کی حمایت ریکارڈ پر موجود ہے۔ ہزارہ صوبے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوبارہ بل اور نوٹس دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر صوبہ ہزارہ تحریک کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود، بریگیڈیئر شہزاد اعوان اور مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں سردار لیاقت کسانہ، قاری محبوب الرحمن اور ماسٹر منیر احمد بھی موجود تھے۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے لیے کے پی کے اسمبلی تین دفعہ قرارداد پاس کر چکی ہے۔ اب ہم قومی اسمبلی میں بل اور سینیٹ میں نوٹس دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کسی سیاست یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد کے لیے بنائے جانے ضروری ہیں۔ ہزارہ صوبہ اور دیگر صوبے ملک کو استحکام بخشیں گے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اربوں کھربوں کے وسائل کہاں جا رہے ہیں، این ایف سی ایوارڈ کے پیسے کہاں جاتے ہیں، ان کا استعمال کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہا۔ قوم کا پیسہ قوم پر خرچ نہیں ہو رہا۔ ہزارہ صوبہ اور دیگر صوبے بنیں گے تو یہ وسائل عوام پر خرچ ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سولہ سال سے ہم ہزارہ کی تحریک چلا رہے ہیں۔

بریگیڈیئر شہزاد اعوان اور پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، ہماری منزل اور توجہ ملک کا استحکام ہے۔ ہمارے اردگرد چھوٹے چھوٹے ممالک کے بے شمار صوبے ہیں، پاکستان میں کیوں نہیں بن رہے۔ اگر ہم قوم اور ملک کی فلاح چاہتے ہیں تو ہمیں صوبے بنانا ہوں گے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ہزارہ اور بہاولپور صوبے فوری بنانے کی ضرورت ہے، ساتھ ساتھ دوسرے صوبے بھی بنائے جائیں۔