مطالبات حل نہ ہوئے تو پہیہ جام کی طرف جائیں گے:حافظ نعیم

ملک میں قرضوں پر بھاری رقم سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہی ہے، جبکہ مقامی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا بوجھ بھی موجود ہے

September 5, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز پیر سے ہوگا، تاہم احتجاج اور مذاکرات کا عمل بیک وقت جاری رہے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے عوام کے لیے ریلیف حاصل کرنے میں کامیابی ملے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ بڑھاتے ہوئے پہیہ جام کی طرف بھی جایا جاسکتا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا تیل کی عالمی قیمتوں سے براہ راست تعلق نہیں۔ ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے تو حکومت کو لیوی ختم کرنے کے آپشن پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع اور مارجن پر بھی سوال اٹھایا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی مالی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قرضوں پر بھاری رقم سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہی ہے، جبکہ مقامی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا بوجھ بھی موجود ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ نظام میں عوام کے بجائے بعض مالیاتی اداروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ادارے کی نااہلی کے باعث قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ہر ایسے احتجاج کی حمایت کرتی ہے جو آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت کی احتجاجی کال پُرامن ہوتی ہے اور عوام نے اس پر بھرپور ردعمل دیا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کسی کو زبردستی احتجاج کا حصہ نہیں بناتی بلکہ پُرامن طریقے سے عوام کو متحرک کرتی ہے۔

بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ بات چیت کرکے بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے بقول بجلی، تیل اور گیس سمیت مختلف شعبوں میں ایک بااثر مافیا موجود ہے جو عوام پر بوجھ بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر کافی آگاہی حاصل ہوچکی ہے اور جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حق میں ملک کے 5 کروڑ عوام سے دستخط لینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ حکومت اگر پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کردے تو پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی ضرورت بھی کم ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت جتنی تاخیر کرے گی، احتجاجی سرگرمیوں میں اتنا ہی اضافہ ہوگا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عوامی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔