آیت نور کے والدین کو بھی پولیس ہراساں کرتی رہی۔تین ملزمان دوستی کی بنیاد پر گرفتار

تینوں ملزمان کا تعلق دربند مانسہرہ سے، آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں

September 5, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

آیت نور کیس میں مقتولہ کے والدین کو بھی پولیس تنگ اور ہراساں کرتی رہی۔ انہیں شدید ذہنی اذیت دی گئی۔پولیس بچی کے اغواء اور موت کو اس کی ماں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش میں لگی رہی۔والد سےباربار نکاح نامہ مانگا جاتا ۔کبھی کہا جاتاتھا تمہاری دوسری بیوی ہے دوسری شادی کررکھی ہے۔

ذرائع کا بتاناہے کہ آیت نور کی ماں کا موبائل فون پولیس نے کھنگالا۔ آیت کی ماں اپنی ایک بہن سے فون پر کال کر کے بات چیت کرتی تھی۔ وہ نمبر آیت کی ماں کے بہنوئی کا تھا۔ پولیس نے آیت کے خالو کو شامل تفتیش کیا جس کے بعد وہ ابھی تک پائوں پر ٹھیک طرح چل نہیں سکتا۔

اس کیس میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ملزم عثمان ولد لقمان تینوں ملزمان کا آبائی علاقہ دربند،مانسہرہ بتایا جا رہا ہےتینوں آپس میں رشتہ دار ہیں۔عثمان کا والد پیشے کے اعتبار سے حجام ہے۔اس کے والد سمیت آباؤ اجداد کا تعلق مانسہرہ کے علاقے دربند سے بتایا جاتا ہے اور ہری پور میں ماڈل ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں۔ عثمان جج کے سامنے بھی اپنے جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔ دوسرے ملزم قاسم نثار کا والد دبئی میں کام کرتا ہےقاسم کی والدہ مانسہرہ سے ہیں اور والد دربند سے ۔ہائی سکول کانگڑہ میں نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ ملزم طلحہ فرید ولد فرید تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ ساتویں جماعت کا طالب علم اور قرآن مجیدحفظ کر چکا ہے۔ اس کا آبائی علاقہ دربند ضلع مانسہرہ ہے۔

تینوں ملزمان کا آبائی علاقہ ایک، تینوں ایک ہی سکول میں پڑھنے والے آیت نور کو گھر کے دروازے سے ساتھ لے کر جانیوالے ملزم 13سالہ حسن جس کاتعلق نوشہرہ سےہےکباڑ کا کام کرتا ہے۔

ایک ملزم قاسم نثار کے والد نثار احمد نے وڈیوبیان میں کہا ہے کہ بچی کے والد کا کہناہےکہ ہمارے ملزمان یہ تین لڑکے نہیں ، صرف چوتھالڑکا حسن ہے۔تینوں بچے ایک ساتھ مدرسے میں پڑھتے رہے۔میں پولیس کو بارباریہ بتاتارہا۔ یوسف نامی کسی بچے کے کہنے پر قاسم کو پولیس نے اٹھایا۔ اسے پوچھاگیا تمہارادوست کون ہے، اس نے طلحہ کا نام لیا ، طلحہ سے پوچھاتمہارادوست کون ہے، اس نے عثمان کا بتایا۔ بس اس طرح جولڑی بنی ، پولیس نے اس کے مطابق تینوں کو گرفتار کرلیا۔

دریں اثنا، کیس تاحال منطقی انجام تک نہ پہنچ سکا۔ کیس پر اہم مانیٹرنگ اجلاس ہوا، ئندہ ہفتے ایک اور فالو اَپ اجلاس ہوگا،انویسٹی گیشن برانچ تحقیقات کی کڑی نگرانی کرے گی،تحقیقات درست طریقے سے مکمل کرنے اور کیس کو میرٹ پر حتمی شکل دینے کو یقینی بنایا جائے گا۔