آج ملک بھرمیں یوم تحفظ ختم نبوت منایاجارہاہے
آئین میں ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قراردیا گیاتھا
آج یوم تحفظ ختم نبوت منایا جارہاہے۔7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ نے آئینی ترمیم کرکے قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔یہ آئین میں دوسری ترمیم تھی۔اس کے ذریعے آئین میں قراردیاگیاہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان قرارنہیں دے سکتے اور نہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہہ سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تاریخی قرار داد پیش کرنے کا اعزاز جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانیؒ کو حاصل ہوا تھا۔ اسمبلی میں قادیانی جماعت کے دونوں گروپوں ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ کو اپنے عقائد اورجماعتی موقف پیش کرنے کو کہا گیا ۔ علامہ نورانی نے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر گیارہ روز جرح کی ۔ علامہ شاہ احمد نورانی ، علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری اور مولانا سید محمد علی رضوی سمیت ممتاز مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے پوری تندہی اور جانفشانی سے قومی اسمبلی میں قادیانیت کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا ۔ ان تمام امور میں قائد حزب اختلاف مفتی محمود ، نوابزادہ نصراللہ خان ، خان عبدالولی خان ، مولانامحمد یوسف بنوری، مولانا سید ابو ذر بخاری سمیت جید علماءاور اکابرین کی بھر پور معاونت حاصل رہی ۔
وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے دور اندیشی اور اعلیٰ تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قرار داد کی مکمل حمایت کی۔ قومی اسمبلی نے 7ستمبر 1974ءکو علامہ شاہ احمد نورانی کی اس تاریخی قرار داد کو متفقہ طور پر منظورکر لیا ۔