بھارت اقوام متحدہ کے نئے نقشے میں آزاد کشمیر،گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ تسلیم کر بیٹھا

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کے بعد نقشہ مسترد کرنے کا بیان۔پاکستان کا ردعمل بھی آگیا

September 7, 2026 · امت خاص

 

اقوام متحدہ کے نئے نقشے میں بھارت نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرلیا،تاہم اس کے حق میں ووٹ دینے کے بعد مسترد کرنے کا بیان جاری کردیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کا مقصد افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھایا جانا تھا۔اس ووٹنگ کے دوران امریکہ واحد ملک تھا جس نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی ۔ فرانس، برطانیہ اور انڈیا سمیت 164 ممالک کے ووٹ اس تجویز کی حمایت میں آئے۔تاہم اس نقشے میں انڈیا کی جغرافیائی حدود کو مختلف انداز میں دکھائے جانے کی بات کھلنے پر اب اس نئے نقشے نے ایک تنازعے کو جنم دے دیا۔

نئے نقشے میں جموں و کشمیر کے بعض حصوں کو پاکستان اور چین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔

اس تنازع کے باعث اتوار کو انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئے نقشے سے متعلق تنازعے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو اقوام متحدہ کے مجوزہ عالمی نقشے میں صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کوئی بھی ’غلط‘ یا ’گمراہ کن‘ نقشہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چار ستمبر کو مساوی رقبے کے عالمی نقشے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ اس کا مقصد ایسے نقشوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے جو براعظموں کے زمینی حجم کو محفوظ رکھتے ہوں۔ یہ قرارداد دنیا کے کسی مخصوص نقشے کی توثیق کرتی ہے۔ نیز یہ سیاسی نقشوں سے متعلق مسائل، جیسے بین الاقوامی سرحدوں، متنازع علاقوں یا مقامات کے ناموں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔بیان میں کہا گیا کہ انڈیا نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا اور اپنے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے مساوی رقبے والے نقشوں کے استعمال کے بنیادی اصول پر زور دیا۔

تاہم اس کے بعد بیان میں وضاحت دی گئی اور کہا گیا کہ ہم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ قرارداد کسی مخصوص نقشے، پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی عکاسی کی حمایت نہیں کرتی۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سمیت انڈیا کے خودمختار علاقے کو صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق ہی دکھایا جانا چاہیے۔

پاکستان نے جموں و کشمیر کے متنازع خطے کے نقشے سے متعلق انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور ’غیر قانونی قبضہ‘ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ترجمان کے مطابق ’اقوام متحدہ کے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ ظاہر کیا گیا ہے اور یہی اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی عکاسی کرنے والی نقشہ سازی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے ’سرکاری نقشے‘ اور خودمختاری کے یکطرفہ دعوے اس متنازع خطے کی حیثیت پر اثرانداز نہیں ہوتے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو ایک قرارداد منظور کی، جس میں دنیا کے موجودہ نقشے کی جگہ ایک ایسا نقشہ متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے جو دنیا کو زیادہ درست انداز میں پیش کرتا ہے۔اس قرارداد کو 164 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ۔ امریکہ نے اس کی مخالفت کی اور چھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔تاہم، اقوامِ متحدہ کی یہ قرارداد لازمی نہیں، لیکن اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والے عالمی نقشوں میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔