ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے کارروائی میں خلل ڈالنا افسوسناک ہے،جوڈیشل کمیشن
ڈاکٹر سمعیہ سید کے بیان کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرونے کارروائی میں مداخلت کی، تحریری حکمنامہ
فائل فوٹو
کراچی: میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن نے آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں ایڈوکیٹ جنرل کی مداخلت کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس عمل پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
میر رضا کیس کی جوڈیشل انکوائری کرنے والے کمیشن نے آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر سمعیہ سید کے بیان کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرونے کارروائی میں مداخلت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے کارروائی میں خلل ڈالنا افسوسناک ہے۔
تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے اہل خانہ کے وکیل پر خاندان کی جانب سے سوالات کرنے پر اعتراض کیا جبکہ سندھ حکومت کے اعلیٰ ترین قانونی افسر کی جانب سے ایسا اعتراض حیران کن ہے، خصوصا اس وقت جب پولیس سرجن پوسٹ مارٹم کے دوران سینئر پولیس افسران کے کردار سے متعلق بیان دے رہی تھیں۔
فریال تالپور نے کہا تھا کہ سوگوار خاندان کو انصاف فراہم کرنا اور نظام انصاف پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔
تحریری حکم نامے میں لکھا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا مقتول کے خاندان کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے بعض وضاحتیں طلب کرنے پر اعتراض افسوسناک ہے۔ کسی سوال کا کارروائی سے متعلق ہونا یا نہ ہونا طے کرنا کمیشن کا اختیار ہے۔
حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کا تقاضا ہے کہ کیس سے متعلق اصل حقائق اور حالات سامنے لائے جائیں، کمیشن شفاف انداز میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے تاکہ وہ پیش ہوکر اپنا مؤقف دیں کہ آیا مقتول کے خاندان کو یہ اطمینان حاصل کرنے کے لیے سوالات کرنے سے روکا جا سکتا ہے یا نہیں۔
آج کی کارروائی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے خاندان کے سوالات کو شفاف انداز میں زیرِ غور لانے سے روکنے کی دانستہ کوشش پر روکی گئی۔ کمیشن کی مزید سماعت 10 ستمبر کو صبح 9 بجے مقرر کی گئی ہے۔ تحریری حکم نامے میں لکھا گیا کہ گواہان کو آئندہ تاریخوں سے متعلق بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔
قبل ازیں میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل کمیشن میں سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کو روسٹرم پر طلب کیا گیا، جہاں کمیشن نے ان سے پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی سے متعلق مختلف سوالات کیے۔
سماعت میں میر رضا کی والدہ اور بہن کے علاوہ ایس ایچ او فیروز آباد اور تفتیشی افسر بھی موجود تھے۔ کمیشن نے ڈاکٹر سمیعہ سے ان کی تعیناتی اور پیشہ ورانہ تجربے کے بارے میں دریافت کیا۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ وہ 10 جون 2022 سے کراچی میں پولیس سرجن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ کراچی اور ٹھٹھہ میں اب تک 99 قبر کشائیاں کرچکی ہیں، جبکہ ایک روز میں 11 قبر کشائیوں کا بھی تجربہ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ انہوں نے 1996 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی۔
دوسری جانب میر رضا کیس کی تفتیش میں ایپل واچ اور آئی فون سے اہم شواہد ملنے کی امید بھی پوری نہ ہوسکی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پنجاب فارنزک لیبارٹری میر رضا کا آئی فون کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب فارنزک لیبارٹری نے اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے، جس کے بعد میر رضا کی ایپل واچ اور موبائل فون واپس تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیے جائیں گے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ایپل واچ سے کچھ اسکرین شاٹس اور پیغامات ضرور حاصل ہوئے ہیں، تاہم ابتدائی طور پر ان مواد کو کیس کی تفتیش کے لیے اہم قرار نہیں دیا جارہا۔
ذرائع کے مطابق دونوں برقی آلات اس سے قبل 13 اگست کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھیجے گئے تھے۔ تاہم 15 اگست کو میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے ادارے پر تحفظات کے اظہار کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے دونوں آلات واپس منگوا لیے تھے۔
بعد ازاں ایپل واچ اور آئی فون کو پنجاب فارنزک لیبارٹری بھجوایا گیا، جہاں سے اب تحریری جواب کے ذریعے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ آئی فون کھولنے اور اس سے مزید معلومات حاصل کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔