میر رضا قتل کیس میں ایپل واچ اور آئی فون سے شواہد نہ مل سکے

میر رضا کی والدہ اور بہن کے علاوہ ایس ایچ او فیروز آباد اور تفتیشی افسر بھی موجود تھے۔

September 8, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل کمیشن میں سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کو روسٹرم پر طلب کیا گیا، جہاں کمیشن نے ان سے پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی سے متعلق مختلف سوالات کیے۔

سماعت میں میر رضا کی والدہ اور بہن کے علاوہ ایس ایچ او فیروز آباد اور تفتیشی افسر بھی موجود تھے۔ کمیشن نے ڈاکٹر سمیعہ سے ان کی تعیناتی اور پیشہ ورانہ تجربے کے بارے میں دریافت کیا۔

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ وہ 10 جون 2022 سے کراچی میں پولیس سرجن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ کراچی اور ٹھٹھہ میں اب تک 99 قبر کشائیاں کرچکی ہیں، جبکہ ایک روز میں 11 قبر کشائیوں کا بھی تجربہ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ انہوں نے 1996 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی۔

دوسری جانب میر رضا کیس کی تفتیش میں ایپل واچ اور آئی فون سے اہم شواہد ملنے کی امید بھی پوری نہ ہوسکی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پنجاب فارنزک لیبارٹری میر رضا کا آئی فون کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب فارنزک لیبارٹری نے اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے، جس کے بعد میر رضا کی ایپل واچ اور موبائل فون واپس تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیے جائیں گے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ایپل واچ سے کچھ اسکرین شاٹس اور پیغامات ضرور حاصل ہوئے ہیں، تاہم ابتدائی طور پر ان مواد کو کیس کی تفتیش کے لیے اہم قرار نہیں دیا جارہا۔

ذرائع کے مطابق دونوں برقی آلات اس سے قبل 13 اگست کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھیجے گئے تھے۔ تاہم 15 اگست کو میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے ادارے پر تحفظات کے اظہار کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے دونوں آلات واپس منگوا لیے تھے۔

بعد ازاں ایپل واچ اور آئی فون کو پنجاب فارنزک لیبارٹری بھجوایا گیا، جہاں سے اب تحریری جواب کے ذریعے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ آئی فون کھولنے اور اس سے مزید معلومات حاصل کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔