پاکستان میں راتیں گرم ہونے لگیں-سبب کیا ہے؟
فائل فوٹو
اسلام آباد: پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث رات کے درجہ حرارت میں دن کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے کئی علاقوں میں رات کے وقت بھی گرمی کی شدت کم ہونے کے بجائے برقرار رہنے لگی ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات کی 1981 سے 2025 تک کے موسمیاتی اعداد و شمار پر مبنی سائنسی جائزے کے مطابق گزشتہ 45 برس کے دوران ملک کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 0.95 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.90 ڈگری جبکہ کم سے کم درجہ حرارت میں تقریباً 1.17 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا۔ اس طرح رات کے درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
ماہرین کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کا مطلب یہ ہے کہ رات کے وقت گرمی سے قدرتی طور پر ملنے والا آرام کم ہوتا جا رہا ہے۔ وسطی اور جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس رجحان کے اثرات زیادہ نمایاں ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بارشوں کے مجموعی سالانہ رجحان میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم یہ کمی اعداد و شمار کے اعتبار سے نمایاں نہیں۔ اس کی بڑی وجہ بارشوں کا سال بہ سال شدید اتار چڑھاؤ ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف بارشوں میں کمی یا اضافے کا نہیں بلکہ بارش کے انداز میں تبدیلی کا بھی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں اور موسموں میں بارش یکساں طور پر نہیں ہو رہی، جس کے باعث بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش جبکہ کچھ خطوں میں طویل خشک ادوار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
جائزے کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں خصوصاً قبل از مون سون اور مون سون کے دوران بارشوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شمالی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں مختلف موسموں کے دوران بارشوں میں کمی دیکھی گئی۔
سردیوں اور بہار میں گرمی میں نمایاں اضافہ
موسمیاتی جائزے کے مطابق پاکستان میں گرمی کا نمایاں رجحان خاص طور پر سردیوں اور بہار کے اختتام کے دوران سامنے آیا۔ شمالی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں میں فروری سے اپریل کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں ہر دہائی کے دوران ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
1981 سے 2000 اور 2001 سے 2020 کے ادوار کا موازنہ کیا جائے تو گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان اور سندھ کے بعض حصوں میں موسم بہار کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پہلے دور کے مقابلے میں ڈیڑھ سے ڈھائی ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہا۔
ماہرین کے مطابق موسم بہار میں بڑھتی ہوئی گرمی شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کے عمل کو پہلے شروع کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں پانی کے ذخائر، دریاؤں کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
گرم راتوں میں بھی اضافہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وسطی اور جنوبی پنجاب، سندھ اور مشرقی بلوچستان کے بعض علاقوں میں رات کے درجہ حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسی طرح ایسے گرم دنوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جن میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتا ہے۔ پنجاب، وسطی و بالائی سندھ اور مغربی بلوچستان کے بعض علاقوں میں سال کے دوران ایسے دنوں کی تعداد 100 سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مغربی بلوچستان، بالائی اور مشرقی سندھ اور جنوب مشرقی پنجاب میں شدید گرم دنوں کی تعداد میں بھی ہر دہائی کے دوران اضافہ ہوا، جبکہ وسطی اور جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں ایسی گرم راتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جن میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں جاتا۔
بارشوں کا غیر متوقع انداز تشویش کا باعث
موسمیاتی جائزے میں شدید بارشوں کے واقعات میں بھی اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آزاد کشمیر، سندھ اور شمال مشرقی پنجاب کے بعض علاقوں میں ایک دن کے دوران 150 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ شمالی پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں پانچ روز کے دوران 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش بھی ہوئی۔
رپورٹ میں حالیہ برسوں کے دوران شدید موسمی تضادات کی مثالیں بھی دی گئی ہیں، جن میں 2024-25 کی سردیوں میں ملک گیر بارشوں کی نمایاں کمی اور 2022 کے مون سون کے دوران جنوبی پاکستان میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارش شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا اثر صرف درجہ حرارت بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ گرمی، بارش، سیلاب اور خشک سالی کے انداز بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی اور غیر متوقع بارشوں سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں کی موسمی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے۔ پانی کے بہتر انتظام، زراعت کے تحفظ، شدید موسم کی پیشگی اطلاع اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔