ڈیفنس تشدد کیس،متاثرہ بہن بھائی کو 4 روز جیل میں رکھنے کا انکشاف
دورانِ سماعت عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔
فائل فوٹو
کراچی: ڈیفنس میں بہن بھائی پر مبینہ تشدد کے کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ خاندان کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس نے تشدد کا سامنا کرنے والے بہن بھائی کو گرفتار کرکے چار روز تک جیل میں رکھا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران مقدمہ درج کرنے اور عبوری ضمانت کی توثیق سے متعلق درخواستوں پر کارروائی ہوئی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران معطل تفتیشی افسر عمران عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان گاڑی ہٹانے کے معاملے پر تنازع ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے بھی مدعی مریم کے بال پکڑنے کا واقعہ پیش آیا۔
دوسری جانب متاثرہ خاندان کے وکیل نے تفتیشی افسر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تاہم پولیس نے مبینہ طور پر تشدد کرنے والی خاتون کو گرفتار کرنے کے بجائے متاثرہ بہن بھائی کو ہی حراست میں لے لیا۔
وکیل کے مطابق ان کے موکلین کو چار روز تک جیل میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں ضمانت ملی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ درج کرانے کے لیے پولیس سے رجوع کیا گیا تو مبینہ طور پر دباؤ کا حوالہ دے کر کارروائی سے گریز کیا گیا۔
متاثرہ خاندان کے وکیل نے مزید بتایا کہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ تک پہنچایا گیا، جبکہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے انکوائری کا حکم دیا۔
وکیل کے مطابق انکوائری کے نتیجے میں معطل تفتیشی افسر عمران سمیت بعض پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اب درج کی جانے والی ایف آئی آر میں بھی مناسب دفعات شامل نہیں کی جارہیں۔
دورانِ سماعت عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔