پی ایم ڈی سی ہدایات،43 افغان طلبہ کو طبی جامعات سے نکال دیا گیا
کالج انتظامیہ نے تمام طالبات کو 24 گھنٹوں کے اندر ہاسٹل کلیئرنس سمیت دیگر انتظامی امور مکمل کرنے کی ہدایت
فائل فوٹو
اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے لاہور کی فاطمہ جناح میڈیکل کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے مجموعی طور پر 43 افغان طلبہ و طالبات کو فارغ کردیا گیا ہے۔
فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے 21 افغان طالبات کو فارغ کیا گیا، جبکہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے بھی 22 افغان طلبہ و طالبات کی فراغت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ متعلقہ اداروں نے طلبہ کو ہاسٹل اور دیگر انتظامی امور کی کلیئرنس فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان سفارتخانے کے مطابق پاکستان میں قانونی طور پر تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبہ کو اچانک تعلیمی اداروں سے فارغ کرنے سے ان کے تعلیمی مستقبل اور کئی سال کی محنت متاثر ہوسکتی ہے۔
افغان سفارتخانے نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ افغان طلبہ کی تعلیم سے متعلق معاملات کو انسانی اور تعلیمی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے اور انہیں سیاسی اختلافات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
سفارتخانے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام افغان طلبہ کے تعلیمی اور انتظامی معاملات پر نظرثانی کریں اور ایسے طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
افغان سفارتخانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم تعلیم، علم اور انسانی تعلقات کو ان اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔