آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی کی مخالفت،جنوبی کوریا میں احتجاج

مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کے قریب احتجاج کیا اور مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے

September 9, 2026 · بام دنیا
فوٹو گوگل

فوٹو گوگل

سیئول میں شہریوں نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی تعیناتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی کوریا کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں فریق نہیں بننا چاہیے۔

مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کے قریب احتجاج کیا اور مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر شرکا نے جنوبی کوریا کے نوجوانوں کو کسی جنگ کا حصہ نہ بنانے کے نعرے بھی لگائے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم سیئول نے تاحال فوجی دستے بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

جنوبی کوریا نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم متحدہ عرب امارات بھی روانہ کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی رسد کے نظام کے تحفظ میں ممکنہ کردار کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کی فوجی موجودگی یا امریکی کارروائیوں میں شرکت کو واشنگٹن کی حمایت تصور کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

جنوبی کوریا میں ممکنہ فوجی مداخلت کے خلاف عوامی ردعمل بڑھنے سے حکومت کے لیے فیصلہ مزید حساس ہوگیا ہے۔ کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری بھی ضروری ہوگی۔