حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی

درآمد کی جانے والی گندم تازہ فصل کی ہونی چاہیے جبکہ کسی بھی عالمی سپلائر کی کم از کم 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پیشکش ہی قابل قبول ہوگی۔

September 9, 2026 · قومی
حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی

حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی

حکومت نے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے عالمی سطح پر گندم کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کردیا۔

ٹینڈر کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم تازہ فصل کی ہونی چاہیے جبکہ کسی بھی عالمی سپلائر کی کم از کم 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پیشکش ہی قابل قبول ہوگی۔

گندم کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر سی ایف آر بنیادوں پر پہنچائی جائے گی۔ ٹینڈر کے لیے بولیاں 16 ستمبر کو صبح ساڑھے 11 بجے تک جمع کرائی جاسکیں گی، جبکہ اسی روز دوپہر 12 بجے بولیاں کھولی جائیں گی۔

حکومت نے درآمدی گندم کو صوبوں کی طلب اور ضرورت کے مطابق تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سندھ کو 3 لاکھ ٹن، پنجاب کو 2 لاکھ 50 ہزار ٹن اور خیبرپختونخوا کو 2 لاکھ ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔

اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت تقریباً 3 کروڑ 13 لاکھ ٹن ہے، جبکہ رواں سال پیداوار 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن رہی۔ اس طرح ملکی پیداوار اور مجموعی ضرورت کے درمیان تقریباً 16 لاکھ 90 ہزار ٹن کا فرق موجود ہے۔

دوسری جانب جولائی کے پہلے ہفتے تک پاسکو کے پاس تقریباً 17 لاکھ 83 ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ موجود تھا۔ حکومت کی جانب سے نئی درآمد کا فیصلہ ملکی طلب پوری کرنے اور گندم کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔