میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس کا چھ ماہ کا ڈیٹا پولیس کو مل گیا

ڈیٹا کا تجزیہ مکمل ہونے کے بعد ممکنہ طور پر آئندہ روز پولیس کو رپورٹ فراہم کردی جائے گی۔تفتیشی حکام

September 9, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مقتول میر رضا کے کرپٹو کرنسی سے متعلق گزشتہ 6 ماہ کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی کرپٹو کرنسی سرگرمیوں کا چھ ماہ کا ریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد متعلقہ ڈیٹا جوڈیشل کمیشن کو بھی فراہم کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے این سی سی آئی اے سے حاصل شدہ معلومات کا تفصیلی تجزیہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ تجزیے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ مذکورہ عرصے کے دوران میر رضا کے اکاؤنٹس سے روزانہ کتنی کرپٹو کرنسی لین دین ہوئی۔
تفتیشی حکام کے مطابق ڈیٹا کا تجزیہ مکمل ہونے کے بعد ممکنہ طور پر آئندہ روز پولیس کو رپورٹ فراہم کردی جائے گی۔
واضح رہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی سے لاپتہ ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ صبح تقریباً 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔
دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق لاش انتہائی خراب حالت میں ملی تھی اور سینے پر گولی کا زخم موجود تھا۔ پولیس حکام کے مطابق لاش ملنے سے ایک روز قبل میر رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کردیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کے مطابق میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے لیے پُرجوش تھا۔
پولیس کی جانب سے کیس کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے متعلق حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ بھی تفتیش کا حصہ ہے۔