پاکستان ایل این جی خریدنے میں ناکام، لوڈ شیڈنگ بڑھنے کا خدشہ

حکومت نے ستمبر میں 12 سے 16 ستمبر کے دوران ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے تیسری مرتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔

September 9, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کو ایل این جی کی خریداری میں ایک بار پھر مشکلات کا سامنا ہے، ستمبر میں ایل این جی کارگو کی درآمد کے لیے جاری کیے گئے تیسرے ٹینڈر پر بھی کسی عالمی کمپنی نے بولی جمع نہیں کرائی۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے ستمبر میں 12 سے 16 ستمبر کے دوران ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے تیسری مرتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 ستمبر مقرر کی گئی تھی، تاہم مقررہ وقت تک کسی بین الاقوامی کمپنی نے پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی ایل این جی کے دو ٹینڈرز مہنگی بولیاں موصول ہونے کے باعث منسوخ کیے جاچکے ہیں۔ پاکستان بجلی کی پیداوار سمیت توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے ایل این جی کے فوری ترسیلی کارگو خریدتا ہے۔

ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث بجلی کی پیداوار پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ایل این جی پر چلنے والے تقریباً 6 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے بجلی گھر بھی گیس کی دستیابی میں کمی کے باعث متاثر ہیں۔

قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ اور عالمی مارکیٹ میں موجود غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کے لیے متبادل کارگو کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔ اگر ایل این جی کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو بجلی کی پیداوار میں مزید کمی اور لوڈشیڈنگ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔