سانحہ پمز ایف آئی آر تاحال درج نہ ہونے پر سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی برہم

کمیٹی کو وزارت داخلہ سے کوئی لینا دینا نہیں، ایف آئی آر درج ہونی چاہیے-سیکرٹری صحت

September 9, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

اسلام آباد: (افضل شاہ یوسفزئی) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سانحہ پمز پر تاحال ایف آئی آر درج نہ ہونے کا انکشاف ہوا، ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا

سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ کرمنل پروسیڈنگ کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا گیا ہے، جس پر چیئرپرسن نے کہا کہ کمیٹی کو وزارت داخلہ سے کوئی لینا دینا نہیں، ایف آئی آر درج ہونی چاہیے
سینیٹر ایمل ولی خان نے سوال کیا کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے تو پمز سانحے میں کیوں نہیں ہورہی، آئی جی کو ایف آئی آر میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا جائے

سینیٹر قرت العین مری نے پوچھا کہ فریادی ریاست ہوگی یا جاں بحق بچوں کے والدین؟ سیکرٹری صحت نے جواب دیا کہ پمز انتظامیہ فریادی ہوگی، جس پر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جن کی وجہ سے واقعہ ہوا انہیں فریادی کیسے بنایا جاسکتا ہے، ریاست کو ایف آئی آر درج کرانی چاہیے

ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ اگلی میٹنگ سے پہلے ان کے ٹیبل پر ایف آئی آر کی کاپی ہونی چاہیے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو توسیع دینے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وہ اگلی میٹنگ میں معاملے کی تمام تفصیلات سامنے لائیں گی

چیئرپرسن کمیٹی نے پمز انتظامیہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کیا جبکہ وارڈز کو تالے لگانے پر سوال کیا تو سیکرٹری صحت نے کہا کہ ان کے پاس اس کا جواب نہیں

سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ ہسپتالوں کو اربوں روپے کے فنڈز ملتے ہیں، مگر انتظامیہ جوابدہی سے بچ رہی ہے۔ پمز جیسے مزید چار ہسپتال بن سکتے ہیں، لیکن یہاں نہ جزا ہے نہ سزا۔ انہوں نے ذمہ داروں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی مطالبہ کیا

کمیٹی نے واضح کیا کہ حتمی رپورٹ کا انتظار کرنے کے بجائے ایف آئی آر اور قانونی کارروائی فوری شروع کی جائے، جبکہ سیکرٹری صحت نے یقین دہانی کرائی کہ ذمہ دار ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔