مری سے اغوا کے بعدلڑکیوں کی زبردستی شادی کرانے کی کوشش کاانکشاف

تاوان بھی مانگاگیا ۔بیانات ریکارڈ۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے الٹی میٹم

September 9, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

مری سے اغوا کے بعد آزاد کشمیر سے بازیاب ہونے والی دو بہنوں کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے دونوں لڑکیوں کے بیانات دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت مجاز مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کر لیے ہیں۔ دوسری جانب مری کچہری کے احاطے میں منعقدہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے اجتماع میں واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا گیا ہے۔

مری پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈی پی او مری نے بتایا کہ بازیاب لڑکیوں نے مجسٹریٹ کے سامنے گن پوائنٹ پر اغوا کیے جانے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی ہیں۔ تفتیش میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر اہلِ خانہ سے تاوان طلب کیے جانے کا معاملہ بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔

ڈی پی او کے مطابق بازیاب لڑکیوں کے بیانات میں زبردستی شادی کی کوشش کا انکشاف بھی ہوا ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ دفعہ 164 کے بیانات اور دیگر شواہد کی روشنی میں مقدمے میں مزید متعلقہ قانونی دفعات شامل کی جا رہی ہیں۔

ڈی پی او نے واضح کیا کہ کیس کی تفتیش میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر جاری ہے اور کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ لڑکیوں کی بحفاظت بازیابی پہلا مرحلہ تھا، اب ملزمان کو مضبوط شواہد کے ساتھ قانون کے کٹہرے میں لانا ترجیح ہے۔

بازیاب لڑکیوں کے بیانات، دستیاب شواہد اور دیگر قانونی شہادتوں کو یکجا کر کے مقدمہ مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلحہ کے زور پر اغوا، تاوان طلبی یا مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول اور سنگین جرائم ہیں۔ تفتیش میں جس شخص کا بھی جرم میں کردار سامنے آیا، اس کے خلاف بلا امتیاز قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

واضح رہے کہ مغوی لڑکیوں کی بازیابی کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک سب انسپیکٹر زخمی ہو گیا تھا۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس پارٹی پر فائرنگ اور مزاحمت کے واقعے کا مقدمہ آزاد کشمیر کے تھانہ ٹائیں ڈھلکوٹ میں پہلے ہی درج کیا جا چکا ہے، جس میں دفعہ 324، 186، 353 تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق شدید مزاحمت اور پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کے باوجود آپریشن جاری رکھا گیا اور لڑکیوں کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی گئی۔ ایس ایچ او پتریاٹہ اور پولیس ٹیم کی مسلسل محنت، فیلڈ آپریشن اور مؤثر حکمتِ عملی سے مغوی لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کروایا گیا۔

ڈی پی او مری نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مری پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ مری پولیس کی ذمہ داری صرف بازیابی تک محدود نہیں بلکہ ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے اور تفتیشی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔