مظفرآباد،باغ، نیلم، حویلی،کوٹلی اور بھمبر سمیت مختلف اضلاع میں ہڑتال ناکام
میرپورچیمبر نے تجارتی مراکز کوکھلا رکھنے پر زوردیا
فائل فوٹو
آزادکشمیر میں ہڑتال کوسٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔کاروباری طبقے نے ساتھ نہیں دیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق مظفرآباد، باغ، نیلم، حویلی، کوٹلی اور بھمبر سمیت مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز اور بازار معمول کے مطابق کھلے رہے۔ ٹریفک، پبلک ٹرانسپورٹ بھی رواں دواں ر اور معمولاتِ زندگی بلا تعطل جاری رہے۔
کہیں بھی بڑے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں میں خلل دیکھنے میں نہیں آیا۔ میرپور ڈویژن میں ہڑتال کی کال کا سب سے نمایاں اثر نہ ہونے کے برابر رہا۔ میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے بیشتر علاقوں میں بازار کھلے رہے اور تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ شہر کے نانگی، پرانیاں ہٹیاں، ایف ون، ایف ٹو، میگا مارٹ روڈ، چوک شہیداں، تھوتھال، کلیال اور پرانی چنگی سمیت اہم تجارتی مراکز میں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔
میرپور میں آٹو مارکیٹ، سبزی منڈی، کریانہ اسٹورز، مارٹس، ہوٹلز اور ورکشاپس بھی کھلے رہے ۔ شہر اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔ ضلع کوٹلی کے نکیال، کھوئی رٹہ، سہنسہ اور چڑھوئی سمیت مختلف علاقوں میں بھی بازار کھلے رہے اور کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ بھمبر ضلع میں بھی کال بے اثر رہی ۔
ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے تھے۔ حساس مقامات، اہم شاہراہوں اور دیگر اہم مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات رہے ۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔
ریاست میں شٹرڈائون اور پہیہ جام کی کال ایسی صورت حال میں دی گئی ہے جب معمولات زندگی بحال ہوچکے ہیں۔انتخابات اور پھرحکومت سازی کے بعد میرپور ڈویژن، مظفرآباد ڈویژن ،اور پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی میں بھی صورت حال معمول پر آگئی۔ تعلیمی ادارے کھلے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ چل رہی ہے، سڑکیں قابلِ استعمال ہیں ۔مختلف سرکاری و نجی ادارے کام کر رہے ہیں۔تاہم ،پونچھ کے دواضلاع چھوڑکر باقی حصوں میں حالات کشیدہ ہیں۔
آزادکشمیر میں اس تحریک پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔سول سوسائٹی نے لاتعلقی اختیار کرلی ہے۔تشویش کا مرکز یہ ہے کہ پونچھ کی موجودہ صورتِ حال کہیں اس علاقے کو ترقی کے بجائے تنہائی کی طرف نہ لے جائے۔
اب یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے، خطے جدید انفراسٹرکچر، بہتر تعلیم، ڈیجیٹل معیشت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر کوئی علاقہ مسلسل بندش، کشیدگی، خوف اور غیر یقینی میں رہے تو وہ کئی دہائیاں پیچھے جا سکتا ہے۔
سب سے زیادہ نقصان تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دیکھا گیا ۔اس حقیقت کو سمجھاجارہاہے کہ تعلیم کو سیاسی یا احتجاجی کشمکش کا حصہ بنانا معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
آزادکشمیر کی سب سے بڑی اور موثر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میرپور نےبھی نوستمبر کی کال کو مسترد کردیا۔چیمبر نے کاروبار کھلا رکھنے پر زور دیا تاکہ معاشی ترقی کا پہیہ چلتارہے۔