جماعت اسلامی کامہنگائی کے خلاف راولپنڈی میں دھرناشروع
پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے اضافے کی شدید مذمت، عوامی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان
فائل فوٹو
پیٹرول لیوی، بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی راولپنڈی کے زیراہتمام لیاقت باغ راولپنڈی میں احتجاجی دھرنے کا آغاز کر دیا گیا۔
دھرنے میں راولپنڈی اور اس کے گردونواح سے بڑی تعداد میں شہری، جماعت اسلامی کے کارکنان اور برادر تنظیموں کے کارکنان شریک ہوئے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی راولپنڈی شہر سید عارف شیرازی، امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی دیہی راجہ محمد جواد اور امیر جماعت اسلامی مری غلام احمد عباسی بھی موجود تھے۔
جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری جنرل اقبال خان نے شرکائے دھرنا اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ، لیکن لیوی بھتہ ٹیکس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر مہنگائی ہوتی ہے تو کسی ایک پارٹی کے ورکر کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے لیے ہوتی ہے۔
اقبال خان نے کہا کہ ہر حکومت کہتی ہے کہ آئی ایم ایف نے برباد کردیا، ہم کشکول توڑ دیں گے، لیکن اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف سے رابطے شروع ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی راولپنڈی نے بھی بھتہ لیوی کے خلاف عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف عوامی جدوجہد، احتجاج اور ملک بھر میں دھرنے جاری ہیں اور آج لیاقت باغ کے تاریخی مقام پر احتجاجی دھرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن جب اسلام آباد کی کال دیں گے تو اہلیان راولپنڈی اور ملک کے ہر حصے سے عوام ڈی چوک پہنچیں گے۔
اقبال خان نے کہا کہ حکمران نوشتہ دیوار پڑھ لیں، 24 دنوں سے پاکستان کے 32 شہروں میں دھرنے دیے جارہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر فرد پریشان ہے، گھروں کا کرایہ ادا کیا جائے یا بچوں کی اسکول فیس، جبکہ حکومت نے تاجروں کو بھی نہیں چھوڑا اور انہیں بھی تباہ کردیا ہے۔