اے این پی کا جماعت اسلامی کے دھرنوں میں شرکت کا اعلان
ایمل ولی خان نے حافظ نعیم الرحمان کی احتجاج میں شرکت کی دعوت قبول کرلی
فائل فوٹو
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنوں میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے سینیٹر ایمل ولی خان کو پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنوں میں شرکت کی دعوت دی، جسے ایمل ولی خان نے قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی عوامی کاوش کو سراہا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھتے ہوئے ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور حکومتی پالیسیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
ایمل ولی خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہر اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے گی جو عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ، مہنگائی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کی جائے۔
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور مہنگائی کے خلاف تمام جمہوری قوتوں کو مشترکہ آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ حکومت پر عوام دوست پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
اے این پی نے ملک میں جاری مہنگائی کی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور بھی خوشگوار ماحول میں ہوا۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے 6 تجاویز رکھی ہیں اور حکومت نے ان تجاویز پر غور کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کو بھتہ قرار دیتے ہیں، حکومت تجاویز پر عمل کرے گی تو جواب بھی دیں، جبکہ حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی اور جماعت اسلامی کا احتجاج بھی جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت بھی عوام کے لیے آسانیاں چاہتی ہے اور جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو متعلقہ وزارتوں تک پہنچایا جائے گا۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جمعرات کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔