مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات نہیں منوائے جاسکتے،رانا ثناء اللہ
وزیراعظم نے بھی پی ٹی آئی کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ذاتی سیاسی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دینی چاہیے
مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات نہیں منوائے جاسکتے،رانا ثناء اللہ(فوٹو سوشل میڈیا ایکس)
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، تاہم ریاست کو دباؤ میں لاکر یا یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی پی ٹی آئی کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ذاتی سیاسی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی پر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور سیاست میں تلخ رویوں کو فروغ دینے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کشیدگی کا سلسلہ 2014 سے چلا آرہا ہے، جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق پارٹی کی جانب سے بار بار اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے خیبر پختونخوا کے وسائل سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت لانگ مارچ کیلئے لوگوں کو جمع کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا یہ طرز عمل قابل قبول نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں اب تک بڑی تعداد میں لوگ شریک نہیں ہوسکے۔ انہوں نے منتظمین پر لانگ مارچ کی آڑ میں مالی فائدہ حاصل کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
مذاکرات میں ڈیڈلاک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی واضح ہے اور اس پر عملدرآمد جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ اس معاملے پر مشاورت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور ان کارروائیوں کا ہدف صرف وہ عناصر ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ کسی نئے بڑے آپریشن یا بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی بات درست نہیں اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
افغانستان کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، چین اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک نے افغان حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے، تاہم افغان حکومت اس حوالے سے ضمانت دینے کیلئے تیار نہیں۔