امریکا امن چاہتا ہے تو خطے میں مداخلت بند کرے:اسماعیل بقائی

مسئلے کا پائیدار حل تمام متعلقہ فریقوں کی رضامندی سے طے پانے والے روڈمیپ اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

September 10, 2026 · اہم خبریں
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایران نے یمن کی انصاراللہ کے حوالے سے امریکا کے الزامات مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ خطے میں امن چاہتا ہے تو اپنی فوجی مداخلت اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کا خاتمہ کرے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انصاراللہ یمن کی ایک خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ ان کے مطابق تنظیم نہ کسی ملک سے ہدایات لیتی ہے اور نہ ہی ایران کی پراکسی ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ خطے میں موجودہ بدامنی کی بڑی وجوہات میں امریکی فوجی مداخلت اور بالادستانہ پالیسیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کو امن کے لیے ایسی پالیسیوں سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ یمن میں بمباری یا بیرونی دباؤ کے ذریعے دیرپا امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ مسئلے کا پائیدار حل تمام متعلقہ فریقوں کی رضامندی سے طے پانے والے روڈمیپ اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجے جانے پر بھی اسماعیل بقائی نے اعتراض کیا اور اسے غیرمنصفانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی۔

انہوں نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے طرزعمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے ادارے سے غیرجانبداری اور انصاف پسندی کا مطالبہ کیا۔

اسماعیل بقائی نے جاپان کی جانب سے ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان ماضی میں جوہری حملوں کا نشانہ بننے کے باوجود ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کر رہا ہے، جو ان کے بقول متضاد طرزعمل ہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو کمزور کرتے ہیں اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے سے سیاسی تحفظات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔