دھرنے بھی جاری رہیں گے، لانگ مارچ بھی ہوگا، حافظ نعیم الرحمان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہے ہیں، جبکہ متوسط اور سفید پوش طبقے کے لیے بھی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

September 12, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا ایکس

فوٹو سوشل میڈیا ایکس

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور مطالبات کے حق میں لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں جماعت اسلامی شعبہ خواتین کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہے ہیں، جبکہ متوسط اور سفید پوش طبقے کے لیے بھی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے پر ملک میں پیٹرول مہنگا کردیا جاتا ہے، تاہم قیمتیں کم ہونے کی صورت میں اسی تناسب سے عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے خواتین کو درپیش معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گھر کا بجٹ سنبھالنے والی خواتین مہنگائی کے اثرات کو زیادہ بہتر طور پر محسوس کرتی ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کی تعلیم، بجلی کے بل اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے حکمرانوں کے اخراجات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ذاتی اخراجات کا دعویٰ کرنے والے حکمران اپنی آمدن، اخراجات اور مالی معاملات کا حساب عوام کے سامنے پیش کریں۔

انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نویں جماعت کے امتحانات میں بڑی تعداد میں طلبہ کے ناکام ہونے سے تعلیمی نظام کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور ملک میں یکساں تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان فرق ختم کیا جائے اور غریب، متوسط اور امیر طبقے کے بچوں کو یکساں معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے اور تعلیم کے شعبے میں کاروباری مفادات کے خاتمے پر بھی زور دیا۔

لانگ مارچ کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی دھرنے ختم کرکے لانگ مارچ نہیں کرے گی بلکہ دونوں سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کے مطابق کارکن مختلف سمتوں سے مارچ میں شریک ہوں گے اور جماعت اسلامی اپنے آئینی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کرے گی اور یہ مطالبات عوام کے بہتر مستقبل سے متعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے موقع پر عوام کی شرکت اور طاقت سب کے سامنے ہوگی۔