حوثیوں کو پسپائی کا سامنا۔ یمنی فوج نے مغربی تعز میں کئی ٹھکانے واپس لے لیئے

فضائی مدد حاصل۔نئے علاقو ں کی طرف پیش قدمی

September 14, 2026 · اہم خبریں
تصویر سوشل میڈیا

تصویر سوشل میڈیا

یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا ہےکہ اس نے صوبہ تعز کے مغربی حصے میں حوثی ملیشیا سےبعض ٹھکانے دوبارہ حاصل کر لیے ہیں اور نئے علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی گئی ہے۔

یہ پیش رفت صوبے کے مختلف علاقوں میں حوثی ملیشیا کے اجتماع اور کمک کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ہوئی۔

ترک میڈیا کے مطابق ،تعز ملٹری ایکسس کے ایک فوجی ذریعے نے یمن کے خبر رساں ادارے سبا کو بتایا کہ حکومتی فورسز نے حوثیوں کی دراندازی کے بعد ضلع الشمایتین میں جرداد کے علاقے پر مقامات کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ ذریعے کے مطابق اس کے بعد فورسز نے غیل بنی عمر کی طرف پیش قدمی کی، جو تعز صوبے سے حوثیوں کو نکالنے کے لیے جاری کارروائیوں کا حصہ ہے۔

غیل بنی عمر ایک دیہی علاقہ ہے جو حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان فرنٹ لائن کا کام کرتا ہے۔

جھڑپوں کے دوران مسلح افواج نے فوجی سازوسامان قبضے میں لے لیا اور حوثی ملیشیا کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔زمینی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں نے صوبہ تعز کے مختلف علاقوں میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں، اجتماعات اور گاڑیوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔

ذرائع کے مطابق ،جنگی طیاروں نے تعز کے متعدد حصوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں، اجتماعات اور گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے پے در پے حملے کیے۔ یہ حملے ذباب، الوازعیہ اور ہیفان اضلاع میں حوثیوں کی گاڑیوں اور ان کے گڑھ پر کیے گئے۔

جبل حبشی ضلع کے علاقے العفیرہ میں مسلح گروہ کے جنگجوؤں کے ایک اجتماع پربمباری سے متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کے گولہ بارود کا ذخیرہ پھٹ گیا۔ حملوں میں کم از کم 10 مسلح جنگجو ہلاک ہوئے۔

یمنی حکومتی فورسز نے سعودی سرحد کے ساتھ واقع صوبہ الجوف میں پیش قدمی کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت الحزم کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ حکومتی فورسز نے موخا اور اس کے گردونواح کے علاقوں کے ساتھ ساتھ تعز، لحج اور الضالع صوبوں میں حوثی اہداف پر فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی ہے، اور کہا ہے کہ فوجی گاڑیاں اور ہتھیار تباہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مارب پر حوثیوں کا ایک بڑا حملہ پسپا کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔