آزاد کشمیر کی صدارت پونچھ ڈویژن کو ملنے کاامکان۔3 نام زیر غور
شاہ غلام قادر کے علاوہ ڈاکٹر نجیب نقی اور مشتاق منہاس شامل
سجاد عباسی
آزاد کشمیر کی صدارت کے لیے تین نام زیر غور ہیں جن میں شاہ غلام قادر،ڈاکٹر نجیب نقی اور مشتاق منہاس شامل ہیں تاہم سرپرائز کے طور پر کوئی اور نام بھی سامنے آ سکتا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کے ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کی صدارت کے لیے کسی ریٹائرڈ شخصیت کو سامنے لایا جائے گا تاہم زیادہ امکان یہ ہے کہ صدر کا تعلق پونچھ ڈویژن سے ہوگا جو اس وقت احتجاج کی زد میں ہے، جس کا بنیادی مقصد عوامی رد عمل اور ناراضی کے عنصر کو کم کرنا ہے۔
یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ شاہ غلام قادر کا تعلق مظفرآباد ڈویژن کے ضلع حویلی سے ہے تاہم انہیں صدارت کے لیے زیر غور لانے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انہیں وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے آخری لمحے باہر کرتے ہوئے اچانک بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنایا گیا تھا، لہذا انہیں اکاموڈیٹ کرنا ضروری ہے، مگر صدارت حتمی طور پر پونچھ کو دینے کی صورت میں شاہ غلام قادر کو سینئر وزارت سمیت کسی اور اہم عہدے پر بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ آخر الذکر دو ناموں میں سے کسی ایک کو صدارت کے لیے فائنل کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق پونچھ ڈویژن کی تحصیل سدھنوتی سے ہے، وہ ماضی میں آزاد کشمیر کے وزیر صحت بھی رہے ہیں اور کنگ ایڈورڈ کالج لاہور کے تعلیم یافتہ ہیں۔
مشتاق منہاس کا تعلق پونچھ ڈویژن کے ضلع باغ سے ہے۔ وہ سینیئر صحافی رہے ہیں اور انہیں مسلم لیگ نون کی قیادت کی قربت حاصل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدارت کے لیے مشتاق منہاس کے حق میں فیصلہ ہونے کا امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ڈاکٹر نجیب نقی نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی اور اسپیکر چوہدری فاروق کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح کسی ایک گروپ کو صدارت اور وزارت عظمیٰ چلے جانے کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر کے لیے بھی لیگی قیادت میں پہلی سی گرم جوشی باقی نہیں رہی کیونکہ وزیراعظم نہ بنائے جانے پر انہوں نے سخت رد عمل دیا تھا اور بعض ذرائع کے مطابق وہ اپنی الگ جماعت بنانے پر بھی غور کر رہے تھے۔تاہم یہ تینوں نام صدارت کے لیے زیر غور ہیں البتہ آخری لمحے کسی نئے نام کے سامنے آنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف مسلم لیگ نون کے ذرائع نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ صدارت کے لیے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کو بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔
واضح ہے کہٓ ازاد کشمیر کے صدر کا انتخاب کا عمل آئین کے تحت 29 ستمبر تک مکمل کرنا ضروری ہے۔