دبئی ایئرپورٹ پر 8 منٹ میں پاسپورٹ تجدید، پاکستانی شہریوں کا وزارتِ داخلہ سے گڈ گورننس کا مطالبہ
متحدہ عرب امارات میں جدید سہولت کی وائرل ویڈیو کے بعد پاکستان میں روایتی نظام اور سست روی پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
دبئی ایئرپورٹ پر 8 منٹ میں پاسپورٹ حاصل کرنے والا امارتی شہری خوشی کا اظہار کرتے ہوئے
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کے لیے انتہائی پھرتی اور اعلیٰ کارکردگی کی ایک انوکھی مثال سامنے آئی ہے جہاں ایک امارتی شہری کو سفر سے چند لمحے قبل معلوم ہوا کہ اس کا پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا ہے۔
دستاویزات اور ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق، مسافر نے گھبرانے کے بجائے فوری طور پر ایئرپورٹ پر قائم پاسپورٹ کی تجدید کے سیکشن سے رجوع کیا۔ عملے نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض 8 منٹ کے قلیل وقت میں نیا پاسپورٹ تیار کر کے شہری کے حوالے کر دیا۔
🇦🇪 A UAE citizen discovered his passport had EXPIRED just before traveling from Dubai Airport…
He went to the airport’s passport renewal section and got a brand-new one in just 8 MINUTES.
Remarkable efficiency.
Writer: Mhedipic.twitter.com/QMKaeC0LHo
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 14, 2026
متحدہ عرب امارات میں پاسپورٹ کی تجدید کے محض آٹھ منٹ میں مکمل ہونے والے حیرت انگیز عمل کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پاکستانی شہریوں نے وفاقی وزارتِ داخلہ اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی توجہ اس جانب مبذول کرانا شروع کر دی ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے، جس نے پاکستان میں انتظامی کارکردگی اور سرکاری محکموں کے سست روی پر مبنی نظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
معروف تجزیہ کار امتیاز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے گڈ گورننس کی عملی مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے وائرل ہونے کے بعد پاکستانی عوام اور صارفین کی جانب سے بھی بیوروکریسی اور حکومتی ڈھانچے کے روایتی طریقوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کا پرزور مطالبہ ہے کہ بیرون ممالک کی طرز پر پاکستان میں بھی عوامی سہولت کاری کے نظام کو جدید، تیز رفتار اور شفاف بنایا جائے تاکہ عام شہریوں کو پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات کے حصول کے دوران طویل قطاروں اور غیر ضروری تاخیر کے روایتی عذاب سے نجات مل سکے۔