گوجرانوالہ پولیس نے سہیل آفریدی کا دعویٰ مسترد کر دیا، مشتبہ قرار دیا جانے والا شخص پولیس اہلکار نکلا
سیکیورٹی پر مامور کانسٹیبل پر تشدد، محکمہ جاتی کارڈ دکھانے کے باوجود قاتل قرار دیا گیا، پولیس
گوجرانوالہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پر کانسٹیبل مقدس علی کا محکمانہ شناختی کارڈ
گوجرانوالہ پولیس نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا وہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے وزیرآباد میں ایک شخص کو اپنے قتل کی غرض سے بھیجا گیا مبینہ قاتل قرار دیا تھا۔ پولیس کے مطابق، مبینہ طور پر مشتبہ قرار دیا جانے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ پنجاب پولیس کا کانسٹیبل مقدس علی ہے، جو باضابطہ طور پر سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھا۔
تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ ایک داڑھی والے شخص کو انہیں نشانہ بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا، جسے ان کے سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے کر ایس ایچ او ثقلین کے حوالے کیا اور اس کے قبضے سے پستول برآمد ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ تاہم، جاری کردہ تصویری شواہد اور پولیس پریس ریلیز کے مطابق یہ تمام دعوے حقائق کے منافی ہیں۔
پولیس دستاویزات کے مطابق کانسٹیبل مقدس علی نے موقع پر اپنی شناخت کروانے کے لیے محکمانہ شناختی کارڈ بھی دکھایا اور واضح کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہے، لیکن اس کے باوجود اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او وزیرآباد کی موجودگی میں کانسٹیبل پر تشدد کیا گیا اور بڑی مشکل سے اس کی جان چھڑائی گئی۔ گوجرانوالہ پولیس نے اس واقعے کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرض شناس اہلکار کو قاتل قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
اس دھاڑی والے شخص کو مجھے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا جس کو میری سیکورٹی والوں نے پکڑا اور SHO ثقلین کے حوالے کردیا گیا۔ دھاڑی والے شخص سے پستول برآمد ہوئی ہے۔
سیالکوٹ میں جہاں میں نے رات گزارنی وہاں کی بجلی کاٹ دی گئی۔ اس کے بعد ۲ جگہوں کی مزید بجلی کاٹنے کے بعد میں وزیر آباد… pic.twitter.com/lMFVFpjJVJ
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) September 16, 2026