شادی سے 12 دن پہلے خودکشی کا سوچ رہی تھی‘، مومنہ اقبال کا انکشاف

نجی تصاویر اور ذاتی مواد سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے باعث اپنی عزت اور نجی زندگی کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہوئیں۔

September 16, 2026 · قومی
شادی سے 12 دن پہلے خودکشی کا سوچ رہی تھی‘، مومنہ اقبال کا انکشاف

شادی سے 12 دن پہلے خودکشی کا سوچ رہی تھی‘، مومنہ اقبال کا انکشاف

اسلام آباد: پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے ساتھ جاری تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے ہراسانی، بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

صحافی ارشاد بھٹی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر نجی تصاویر اور ذاتی مواد سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے باعث وہ اپنی عزت اور نجی زندگی کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہوئیں۔

اداکارہ کے مطابق ثاقب چدھڑ جب ان کے گھر رشتہ لے کر آئے تو ان کے والد نے حتمی جواب دینے کیلئے کچھ وقت مانگا تھا۔ مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ چند ماہ بعد انہیں ثاقب چدھڑ کی پہلی اہلیہ کی جانب سے پیغامات موصول ہونا شروع ہوئے، جن سے انہیں ان کی شادی شدہ ہونے کا علم ہوا۔

مومنہ اقبال نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ان کے منگیتر حمزہ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا اور حمزہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

اداکارہ نے ثاقب چدھڑ کے ساتھ منگنی یا تعلق سے متعلق سامنے آنے والے بعض دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی منگنی نہیں ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اگر منگنی کی تقریب ہوئی ہوتی تو اس کی تصاویر بھی موجود ہوتیں۔

انٹرویو کے دوران مومنہ اقبال نے مبینہ طور پر چیٹ ریکارڈز اور دیگر دستاویزی مواد بھی پیش کیا، جن کے ذریعے انہوں نے ثاقب چدھڑ کی جانب سے بیان کیے گئے تعلق اور رابطوں کی ٹائم لائن پر سوالات اٹھائے۔

مومنہ اقبال نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ تنازع کا مقصد ثاقب چدھڑ سے مالی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ اداکارہ کے مطابق وہ مالی تصفیے کے بجائے معاملے کی حقیقت عوام کے سامنے لانا چاہتی تھیں۔

دوسری جانب معاملے میں قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ 3 ستمبر کو نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد این سی سی آئی اے نے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ دونوں کو تازہ نوٹس جاری کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق نئے شواہد اور سابقہ تحقیقات کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جسے تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو پیش کرنے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔