دوران ڈکیتی نوجوان کا قتل،منگھوپیر تھانے کے سامنے نویں روز بھی دھرنا جاری

مقتول نوجوان کے اہلخانہ کا قاتلوں کی گرفتاری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

September 16, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 کراچی:منگھوپیر گرین سٹی میں 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب گھر کے اندر گھس کر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 16 سالہ روشم کے قاتلوں کا پولیس تاحال سراغ نہیں لگا سکی، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے تھانے کے سامنے دھرنا نویں روز بھی جاری رہا۔

مقتول نوجوان کے دو چچا بختیار احمد اور یار حسین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے روز سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے لخت جگر کے قاتل جب تک گرفتار نہیں ہوتے، احتجاجی دھرنا جاری رہے گا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگ جائے، لیکن دھرنا قاتلوں کی گرفتاری پر ہی ختم ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام سے تاحال رابطے میں ہیں، اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قاتل جلد گرفتار کر لیے جائیں گے۔ کراچی کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں۔ جب قاتل گرفتار ہوں گے تو منگھوپیر تھانے کے باہر ہی روشم خان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور مقامی قبرستان میں تدفین ہوگی۔

واضح رہے کہ ہفتے کی شب کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ مقتول نوجوان روشم کے والد روئیداد خان سے ملاقات کر کے اظہار تعزیت کیا اور انہیں روشم قتل کیس سے متعلق تفتیش میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا تھا۔

مظاہرین کی جانب سے روشم کے قاتلوں کی گرفتاری تک منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جو تاحال نویں روز بھی جاری رہا۔