روسی میجر جنرل انتون گرونس یوکرین میں محاذِ جنگ پر ہلاک
روسی جنرل کی ہلاکت کی چیچن کمانڈر اور یوکرینی حکام نے تصدیق کردی ۔
فائل فوٹو
ماسکو: روسی خبر رساں ادارے وازھنیئے استورئی نے خبر دی ہے کہ روسی فوج کے میجر جنرل انتون گرونس یوکرین میں محاذِ جنگ پر ہلاک ہوگئے ہیں۔
جنرل انتون گرونس ’گروزنی‘ کے نام سے بھی معروف تھے اور چوتھی موٹرائزڈ رائفل بریگیڈ کی کمان کر رہے تھے۔
ادارے کے مطابق جنرل گرونس کی ہلاکت کی تصدیق اخمت یونٹ کے چیچن کمانڈر اپتی علاالدینوف نے بھی کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنرل گرونس کی بریگیڈ یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کے اہم شہر کوسٹیانٹینیوکا کے لیے جاری لڑائی میں شریک رہی تھی۔
رواں سال جولائی میں جنرل گرونس نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اطلاع دی تھی کہ روسی افواج نے کوسٹیانٹینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے بعد اگست میں انہیں ترقی دی گئی اور اس کارروائی کے لیے ’ہیرو آف رشیا‘ کا اعزاز اور ایک تمغہ بھی دیا گیا۔
تاہم جنرل گرونس کی ہلاکت کے حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔
وازھنیئے استورئی کے مطابق لیک ہونے والی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ وہ الچیفسک میں تعینات تھے، جو کوسٹیانٹینیوکا کے مشرق میں واقع ایک شہر ہے۔
اطلاعات کے مطابق 13 ستمبر کو یوکرینی حملوں میں اس علاقے میں فوجی لاجسٹک مراکز اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یوکرین کے ڈرون آپریشنز کی فورسز کے کمانڈر رابرٹ مادیار بروودی نے 16 ستمبر کو ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں وہ حملہ دکھایا گیا ہے جس میں جنرل گرونس مارے گئے۔ بروودی کے مطابق جنرل گرونس 12 ستمبر کو ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق جنرل گرونس اس سے قبل چیچنیا، جنوبی اوسیتیا اور شام میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ 2021 میں ریٹائر ہوگئے تھے، تاہم یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد دوبارہ فعال فوجی خدمت میں واپس آگئے تھے۔
دوسری جانب روس سے وابستہ بعض فوجی بلاگرز نے جنرل گرونس کو کوسٹیانٹینیوکا کے لیے جاری لڑائی میں اہم کردار کا حامل قرار دیا ہے۔
تاہم آزاد مبصرین اور جنگی صورتحال کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق یہ شہر مکمل طور پر روسی کنٹرول میں نہیں ہے اور وہاں اب بھی لڑائی جاری ہے۔
یوکرین کے جنرل اسٹاف اور صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جولائی میں روس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ کوسٹیانٹینیوکا پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔