پیٹرول ریلیف اسکیم، 5 لیٹر کی شرط ، دیہاڑی دار مزدور فہرست سے باہر
پانچ لیٹر پیٹرول کی جتنی رقم بنتی ہے، اتنی تو ہماری دیہاڑی بھی نہیں ہوتی، شہری
پیٹرول سبسڈی کے حوالے سے لوگ امت ڈیجٹل سے گفتگو کر رہے ہیں
اسلام آباد؛ رپورٹ افضل شاہ یوسفزئی: وزیراعظم کی پیٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان تو کر دیا گیا، تاہم پمپوں پر موجود شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سہولت اُس طبقے تک نہیں پہنچ رہی جسے سب سے زیادہ ضرورت ہے ،پیٹرول اس وقت 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اسکیم کے تحت ریلیف کا حساب 5 لیٹر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے یعنی تقریباً 1920 روپے بنتا ہے۔
دوسری جانب پمپوں پر موجود متعدد شہریوں نے بتایا کہ وہ روزانہ صرف 200 سے 300 روپے کا پیٹرول خریدتے ہیں، جو ایک لیٹر سے بھی کم بنتا ہے۔ واضح رہے کہ ایک عام موٹر سائیکل کی فیول ٹینکی کی گنجائش بھی ساڑھے سات لیٹر تک ہوتی ہے۔
پمپ پر موجود ایک شہری کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس سبسڈی کو مذاق بنا دیا ہے، کیونکہ ان کے بقول 2012 سے پرانی موٹر سائیکل کو یہ سہولت نہیں مل سکے گی۔
ایک اور شہری نے کہا پانچ لیٹر پیٹرول کی جتنی رقم بنتی ہے، اتنی تو ہماری دیہاڑی بھی نہیں ہوتی، ایک صارف نے نشاندہی کی کہ شہر میں ہر شخص کے پاس اپنی گاڑی نہیں، اور مزدوری کے لیے کرائے کی گاڑی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا، کیونکہ رجسٹریشن گاڑی مالک کے نام پر ہوتی ہے نہ کہ ڈرائیور کے نام پر۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ موٹر سائیکل کے ماڈل کی قید ختم کی جائے، اور دو تین لیٹر ڈلوانے والوں کو بھی سبسڈی کا فائدہ دیا جائے۔شہریوں نے کہا کہ یہ اسکیم عوام دوست نہیں۔