اسلام آباد: دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق میں اربوں روپے کا میگا اسکینڈل بے نقاب
شہریوں سے غیر قانونی ذرائع سے دستاویزات کی تصدیق کے لیے مبینہ طور پر 8 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ میں شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں ایک ہوشربا کرپشن اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے۔
ایک داخلی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، محض ایک سال کے دوران غیر قانونی ذرائع سے شہریوں سے دستاویزات کی تصدیق کے نام پر 12 ارب روپے کی خطیر رقم اکٹھی کی گئی۔
ڈی جی آڈٹ اینڈ انسپکشن ڈاکٹر احمد علی سروہی کی سربراہی میں قائم 4 رکنی کمیٹی کی رپورٹ میں ایک منظّم “مافیا” کی نشاندہی کی گئی ہے جو عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف تھا۔
شہریوں سے غیر قانونی ذرائع سے دستاویزات کی تصدیق کے لیے مبینہ طور پر 8 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے۔
رپورٹ میں اس نیٹ ورک سے مبینہ طور پر جڑے عہدیداروں کے نام اور ان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔
ان ناموں میں سیکرٹری خارجہ کے دفتر میں کام کرنے والا ایک افسر، مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز (DGs)، ایک سابق ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق سفارت کار بھی شامل ہیں۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایک نجی کوریئر کمپنی کے دفتر خارجہ کے ایک اہلکار سے مبینہ روابط تھے۔
ذرائع کے مطابق، یہ تہلکہ خیز رپورٹ جولائی میں سیکرiٹری خارجہ کے دفتر کو بھجوائی گئی تھی، لیکن اسے قومی احتساب بیورو (نیب) یا کسی اور تحقیقاتی ادارے کو نہیں بھیجا گیا۔
حیران کن طور پر، کمیٹی کی سفارشات کے باوجود، اس معاملے سے مبینہ طور پر جڑے کئی افسران کو بعد ازاں بیرون ملک تعینات کر دیا گیا۔
اس سنگین معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے جیو نیوز نے دفتر خارجہ کے ترجمان کو سوالات ارسال کیے ہیں، تاہم تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔