ایران جنگ مہنگی پڑ گئی- امریکہ میں شرح سود میں اضافہ
امریکی معیشت دباؤ کا شکار، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ
ایران جنگ مہنگی پڑ گئی- امریکہ میں شرح سود میں اضافہ
امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے، جو کہ 2023ء کے بعد اس نوعیت کا پہلا اضافہ ہے۔ مالیاتی پالیسی میں اس نمایاں تبدیلی کا مقصد اخراجات میں کمی لانا اور مہنگائی کو بڑھنے سے روکنا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی شہریوں کے لیے قرض لینا مزید مہنگا ہو گیا ہے جبکہ پہلے ہی گھر، گاڑی اور دیگر مہنگی اشیا خریدنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے معاشی اثرات امریکی صارفین کے بجٹ پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ موڈیز انالیٹکس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک امریکی گھرانے پر اضافی مالی بوجھ تقریباً 1760 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس مجموعی بوجھ میں تقریباً 930 ڈالر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا حصہ ہے، جس میں پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتیں شامل ہیں۔ موڈیز کے تخمینے کے مطابق امریکی صارفین جنگ شروع ہونے کے بعد مجموعی طور پر توانائی پر 121 ارب ڈالر سے زیادہ اضافی خرچ کر چکے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گھریلو بجٹ پر پڑنے والے اس اضافی بوجھ میں تقریباً 425 ڈالر بلند شرح سود کے باعث شامل ہیں، جبکہ مزید 405 ڈالر فوجی اخراجات سے متعلق ہیں۔ ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فوری اثر پٹرول پمپس پر نظر آیا ہے اور امریکی خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ دریں اثنا، امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکا میں ریگولر پٹرول کی قومی اوسط قیمت تقریباً 4.37 ڈالر فی گیلن رہی جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔
شرح سود میں اضافے اور مہنگائی کی اس لہر کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ دیکھی گئی ہے جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار دوبارہ 2007 کی بلند ترین سطح سے اوپر چلی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں اور قرض لینے کی لاگت طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو امریکی گھرانوں کے بجٹ پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔