سہیل آفریدی کی سیکورٹی پر مامور کانسٹبل کو اغوا کرنے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ
واقعہ 16 ستمبر کو وزیرآباد کے محفوظ گارڈن کے قریب پیش آیا، جہاں پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور احتجاج کے دوران سڑک کو مبینہ طور پر بند کیا گیا تھا۔
سہیل آفریدی کی سیکورٹی پر مامور کانسٹبل کو اغوا کرنے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ
وزیرآباد: سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور کانسٹیبل کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 16 ستمبر کو وزیرآباد کے محفوظ گارڈن کے قریب پیش آیا، جہاں پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور احتجاج کے دوران سڑک کو مبینہ طور پر بند کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کے بعد بعض افراد نے کانسٹیبل مقدس علی کو مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل کو ایک مقام پر لے جا کر اس سے سرکاری وائرلیس سیٹ، پرس، شناختی و سروس کارڈز، دیگر کاغذات اور 9 ہزار 700 روپے نقدی چھین لی گئی۔
پولیس نے مقدمے میں محمد احمد چٹھہ سمیت پی ٹی آئی سے وابستہ متعدد افراد کو نامزد کیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 100 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں سرکاری امور میں مداخلت، پولیس اہلکار پر حملہ، مبینہ اغوا، راستہ روکنے، ہنگامہ آرائی اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی شواہد کی روشنی میں آگے بڑھائی جائے گی۔
دوسری جانب نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے مقدمے میں عائد الزامات پر تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔