سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کرلی
دونوں ملزمان وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں عدالت کے آداب اور ضابطۂ کار کا بھی خیال رکھنا چاہیے
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کو دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے قرار دیا کہ ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک مؤثر رہے گی۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں ملزمان وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں عدالت کے آداب اور ضابطۂ کار کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکیل اور عام شہری کے ساتھ معاملے میں فرق ہوتا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابھی اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں فریقین کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے جبکہ سزا معطل کرنے کا قانونی اختیار متعلقہ قانون کے تحت ہائیکورٹ کے پاس ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوشن کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے آخری موقع بھی دیا تھا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ہائیکورٹ میں کیس کی سماعتوں میں تاخیر سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دے کر معاملہ ملتوی ہوجاتا ہے اور بعد میں سپریم کورٹ میں کیس آنے پر ہائیکورٹ میں نئی تاریخ مقرر کردی جاتی ہے۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے بعد ہونے والی پیش رفت سے متعلق بھی استفسار کیا۔
وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو پہلا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو دو ہفتوں میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے ہائیکورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس بھی عدالت کے سامنے پیش کیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پہلے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل سنے جائیں۔
فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس متعدد مرتبہ ملتوی ہوا، جبکہ جلد سماعت کے لیے دائر درخواست بھی رجسٹرار آفس کی جانب سے مسترد کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ میں ہونے والی پیش رفت ان کے لیے غیر متوقع تھی۔
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانتیں دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلیں۔