ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالین کا دورہ اسلام آباد، اہم امور پر تبادلہ خیال

اہم پیش رفت، ترک انٹیلی جنس سربراہ کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال

September 17, 2026 · اہم خبریں
ترکی اور پاکستان کے پرچم، جن کی عکاسی دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی تعلقات سے ہوتی ہے

ترکی اور پاکستان کے پرچم، جن کی عکاسی دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی تعلقات سے ہوتی ہے

ترکی کے قومی انٹیلی جنس ادارے (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم قالین نے کابل اور قندھار کے دورے کے بعد اسلام آباد کا اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ترک سرکاری میڈیا اور انقرہ کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق دورہ اسلام آباد کے دوران ترک انٹیلی جنس چیف نے وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ پاک فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک سے ملاقاتیں کیں۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ان ملاقاتوں میں دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

ترک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی سلامتی کی صورتحال اور اس کے علاقائی ممالک پر پڑنے والے سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اور علاقائی استحکام کو درپیش خطرات پر بھی غور کیا گیا جبکہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

ترکی نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے اور پاکستانی انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں فریقین نے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں اعلیٰ سطحی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ترکی نے پاک افغان کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی ذرائع کو فعال رکھنے کے لیے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔