اسامہ بن لادن کی تعریف پر علامہ طاہر اشرفی سے اعزاز واپس
11 ستمبر حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر پیش کیا تھا
فائل فوٹو
آرچ بشپ آف کینٹربری نے علامہ طاہر اشرفی کو دیا گیا اعزاز واپس لے لیا جو انھیں چندروز پہلے بین المذاہب ہم آہنگی اور مفاہمت کے فروغ کے اعتراف میں گذشتہ ہفتے دیا گیا تھا۔
حافظ طاہر اشرفی کو یہ اعزاز ڈیم سارہ ملیلی نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں پیش کیا تھا۔ انھیں پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور مختلف مذاہب کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے سراہا گیا تھا۔
تاہم، لیمبتھ پیلس کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب 2007 کے ان بیانات کی طرف توجہ دلائی گئی جن میں طاہر اشرفی نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو ’روس، امریکہ اور برطانیہ کے خلاف اسلام کے لیے لڑنے والا مجاہد‘ قرار دیا تھا۔
لیمبتھ پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’طاہر اشرفی کے بعض ایسے تبصرے سامنے آئے ہیں جن کے بعد ہمیں اس اعزاز پر نظرثانی کرنا پڑی، اور اب ہم تصدیق کرتے ہیں کہ یہ اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بن لادن کو ’سیف اللہ‘ یعنی اللہ کی تلوار کا لقب دینا چاہیں گے۔
حافظ طاہر اشرفی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیانات کو ’سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا‘ اور ان کے خلاف ردعمل ’غیر منصفانہ مہم‘ کا حصہ ہے۔