پیٹرول ریلیف اسکیم میں2006 کے بعد کی موٹر سائیکلیں بھی شامل

5 لیٹر کی حد ختم،ماہانہ چار ٹوکن اور ایس ایم ایس سروس بھی مفت کردی گئی

September 19, 2026 · قومی

فائل فوٹو

وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر موٹر سائیکل، چنگچی اور رکشہ صارفین کے لیے پیٹرول ریلیف اسکیم میں 3 بڑی ترامیم کردی گئی ہیں، جس کے تحت اب یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں بھی اسکیم سے مستفید ہوسکیں گی، جبکہ 5 لیٹر پیٹرول کی حد ختم اور ایس ایم ایس سروس مفت کردی گئی ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک بھر سے موصول ہونے والی تجاویز اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکیم میں ترامیم کی منظوری دی ہے تاکہ موٹر سائیکل، چنگچی اور رکشہ چلانے والے زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے 2011 سے رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہی اسکیم میں شامل تھیں، تاہم اب اس مدت کو بڑھا کر 2006 کردیا گیا ہے۔ یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں اب پیٹرول ریلیف اسکیم کا حصہ بن سکیں گی۔

دوسری اہم تبدیلی کے تحت ٹو وہیلرز کے لیے فی ٹوکن 5 لیٹر پیٹرول کی حد ختم کردی گئی ہے۔ اب ماہانہ 4 ٹوکن حاصل کیے جاسکیں گے اور ہر ٹوکن پر 500 روپے کی رعایت دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شہری ٹوکن کے ذریعے پیٹرول ڈلواتا ہے اور 2 لیٹر پیٹرول کی قیمت 780 روپے بنتی ہے تو اسے 500 روپے کی رعایت کے بعد صرف 280 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹوکن کی مقررہ رعایت کے تحت صارف پٹرول پمپ پر اپنی ضرورت کے مطابق پٹرول حاصل کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ تیسری بڑی تبدیلی کے تحت وزیراعظم کی ہدایت پر 800 سی سی تک کی گاڑیوں اور ٹو و تھری وہیلرز کے لیے ایس ایم ایس سروس مفت کردی گئی ہے، جس سے بیلنس نہ ہونے کے باعث تصدیقی پیغامات نہ بھیجے جانے کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔