کنڑ اور پکتیکا میں پاکستانی فضائیہ نے حملے کیے ہیں،طالبان حکومت۔28 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، غیرملکی میڈیا
3اموات کادعویٰ۔ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان
ذبیح اللہ مجاہد
افغانستان کے مشرقی صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں مبینہ طور پر پاک فضائیہ نے حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم تین ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔غیر ملکی میڈیا نے پاکستانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان فضائی حملوں میں 28 مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج نے فوری طور پر ان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےکنڑ اور پکتیکا کے علاقوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری اور حملوں پر مذمتی بیان جاری کیاہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا افغان عوام مناسب جواب دیں گے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کہا کہ اتوار کی رات پاکستانی فوج نے ایک بار پھر کنڑ اور پکتیکا کے شہری علاقوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کنڑ میں ایک خاتون اور 2 مرد جا ں بحق ہوگئے، 2 خواتین اور 2 مرد زخمی ہوگئے۔
طالبان حکام کے مطابق، پاکستانی لڑاکا طیاروں نے رات تقریباً ڈھائی بجے صوبہ کنڑکے ضلع نورگل میں بمباری کی، جس کے نتیجے میں تین افرادجان کی بازی ہار گئے اور متعدد زخمی ہو ئے۔
فضائی حملوں کی دوسری لہر نے صبح تقریباً 4 بجے کے قریب صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کو نشانہ بنایا، جہاں طالبان سے منسلک میڈیا کے مطابق تور کندی اور راکھامیں تباہی ہوئی۔ ان مقامات سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
پاکستان کی فوج کی طرف سے تاحال ان مبینہ فضائی حملوں پر کوئی باضابطہ تبصرہ یا بیان جاری نہیں کیا گیا۔جرمن نشریاتی ادارے نے لکھاہے کہ پاکستانی وزارت اطلاعات نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ ملک میں حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد عسکریت پسند گروہوں کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں میں نمایاں تیزی کر دی ہے۔پاکستانی حکام نے کوہاٹ میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کو بھی انہی جنگجوؤں سے جوڑا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سرحد پار افغانستان سے داخل ہوئے تھے۔