جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کےسامنے نئی ایرانی شرائط کا انکشاف

قطری ثالثوں سے رابطہ، آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہے گی، محسن رضائی۔

September 21, 2026 · اہم خبریں
قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیش کی جانے والی ایرانی شرائط کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیش کی جانے والی ایرانی شرائط کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

 

 ایران نے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے سامنے نئی شرائط پیش کر دی ہیں جو قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز اور شرائط قطر کے ثالثی کردار کے ذریعے امریکا کے سامنے رکھ دی ہیں۔

محسن رضائی کا کہنا تھا کہ تہران جنگ کے ابتدائی 40 دنوں کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ عسکری تجربہ رکھتا ہے اور آئندہ امریکا کا زیادہ طاقت ور اور مؤثر حملوں کے ذریعے مقابلہ کیا جائے گا۔ دستیاب دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کردہ نئی شرائط میں باضابطہ جنگ کا خاتمہ، دونوں ممالک کی خود مختاری کا باہمی احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھی جائے گی۔ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کی تھی، اور تہران اب اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے پیشگی ایرانی اجازت اور خدمات کے عوض فیس عائد کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہا ہے۔

دریں اثنا، ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے اس سفر کے دوران دوحہ میں مختصر قیام کیا اور قطری حکام سے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر اہم تبادلہ خیال کیا۔ یاد رہے کہ قطر اس طویل تنازع کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور ثالثی کے عمل میں ایک انتہائی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔