ملک میں تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے میں ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سے آگے نکل گیا
اہم مالیاتی رپورٹ، ایس ایم ایز اور زرعی قرضوں میں اضافہ، ترقیاتی اخراجات جاری، وزیر خزانہ کی ہدایت۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت مالیاتی امور اور قرضوں کی فراہمی سے متعلق اجلاس کا ایک منظر
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس دینے میں ایک بار پھر ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سے 90 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا جو مجموعی طور پر 144 ارب روپے بنتا ہے۔ دوسری جانب رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس وصولی 38 فیصد کمی کے ساتھ 35.2 ارب روپے رہ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 ارب روپے کم ہے۔ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ایڈوانس انکم ٹیکس میں 50 فیصد کمی کی گئی تھی جس کے تحت جائیداد کی فروخت پر ٹیکس شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد اور خریداری پر 2.5 سے کم کرکے 1.25 فیصد کی گئی۔
ادھر وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ایکسیس ٹو فنانس سٹیئرنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بھی ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاسوں میں پیش کی گئی بریفنگز کے مطابق ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کا حجم 1.137 ٹریلین روپے ہو گیا ہے جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار 862 تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کو 2 ٹریلین روپے تک بڑھانے اور قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت کے لیے ایس ایم ای پورٹل نومبر کے اختتام تک فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق زرعی شعبے کے قرضوں میں 94.7 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور حجم 1.35 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا جبکہ زرعی قرض لینے والوں کی مجموعی تعداد تقریباً 34 لاکھ 60 ہزار ہو گئی ہے۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 13 ہزار 214 افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ہاؤسنگ فنانس کا مجموعی حجم 426 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے پہلے 3 ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 61 ارب 31 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ وزیرخزانہ نے مالیاتی اسکیموں کے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد اور مقررہ مدت میں اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔