خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی قیمت جانوں کی قربانی سے ادا کر رہے ہیں، گورنر فیصل کریم کنڈی
کرک میں پولیس پر حملہ، ایس ایچ او اور گن مین شہید، گورنر کا شدید مذمت کا اظہار
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور کرک فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس لائن میں شہدا کی نماز جنازہ کا منظر۔
پشاور (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے نیو کڑپہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او اور ان کا گن مین شہید ہوگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ بانڈہ داؤد شاہ پولیس کی معمول کے گشت کے دوران پیش آیا جب کوہاٹ اور کرک کی باؤنڈری کے قریب گھات لگائے ملزمان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں تھانہ بانڈہ داؤد شاہ کے ایس ایچ او داؤد خان اور ان کا گن مین فرہاد موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) کرک عمران خان اضافی نفری کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ دریں اثنا، شہید ہونے والے ایس ایچ او داؤد خان اور گن مین فرہاد کی نماز جنازہ پولیس لائن کرک میں پوری سرکاری شان و شوکت کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں آر پی او کوہاٹ، کمشنر کوہاٹ، ڈی پی او کرک اور ڈپٹی کمشنر سمیت عسکری و سول حکام نے شرکت کی اور پولیس کے چاک چوبند دستوں نے شہدا کو سلامی پیش کی۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کی حمایت اور سمجھوتوں کی قیمت پولیس، مسلح افواج اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ادا کر رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے صوبے کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ صوبائی حکومت کو حقیقی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے مزید کتنی جانوں کا ضیاع درکار ہوگا۔
قبل ازیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں کوئی گورنر راج نہیں بلکہ ایک نالائق حکومت مسلط ہے، اور اگر صدر، وزیراعظم یا متعلقہ ادارے یہ سمجھیں کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج ناگزیر ہے تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے آئینی کردار سے بخوبی آگاہ ہیں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اجلاس بلانا ان کا آئینی حق ہے۔