ترکیہ کا یمن میں فوج بھیجنے سے انکار، پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی تعاون جاری

اہم پیش رفت، ترکیہ نے واضح موقف اپنا لیا، پاکستانی دستے پہلے سے موجود ہیں،

October 9, 2026 · اہم خبریں
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون اور مکہ معاہدے سے متعلق ایک منظر

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون اور مکہ معاہدے سے متعلق ایک منظر

ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے انقرہ میں اپنے ہنگری کے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے نہیں ہے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی بھی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر ممالک اس کے دفاع میں بھرپور ساتھ دیں گے، تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنی فوج روانہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترک اور سعودی فوجی حکام مملکت کی دفاعی ضروریات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جن میں خاص طور پر فضائی دفاع، برقی جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت کے شعبے شامل ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ترکیہ پہلے سے ہی سعودی عرب کو بنیادی دفاعی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے جس میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس، نگرانی اور دفاعی منصوبہ بندی میں معاونت شامل ہے۔

دوسری جانب، پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور پاک فوج کے دستے طویل عرصے سے مختلف امور کے تحت سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملی پیش رفت کا فیصلہ کرتے ہوئے ضروری فوجی قوت اور صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری طور پر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق اس اتحاد کے تحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو 3 سالہ مدت کے لیے مکہ اتحاد برائے دفاع کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی سلامتی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے اور اس دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانا اجتماعی دفاع کے عزم کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔