خیبر پختونخوا پولیس کا ہنگامہ آرائی اور احتجاج سے نمٹنے کیلئے سخت آپریشنل ہدایات کا اجراء
امن عامہ کی صورتحال، اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کیلئے پولیس نے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس نے صوبے میں کسی بھی ہنگامہ آرائی، احتجاج اور ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے نئی آپریشنل ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جاری کردہ ہدایات کے مطابق امن و امان میں خلل ڈالنے، سرکاری تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے، سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنے اور شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی احتجاج کے دوران سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہوں کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ توڑ پھوڑ اور تشدد میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس کے علاوہ احتجاجی مظاہروں اور متعلقہ کارروائیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی تاکہ بروقت شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔ پولیس نے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باعث ہر قسم کے اجتماعات اور اکٹھ پر پابندی عائد ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کے تحت بھی اجتماعات پر پابندی عائد ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں اور شہر میں نافذ پابندیوں کا احترام کریں۔