صدر آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی

تاریخی پیش رفت، چوتھی بار نفاذ، صوبائی حکومت معطل۔

October 11, 2026 · اہم خبریں
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور آئینی صورتحال پر اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کا منظر

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور آئینی صورتحال پر اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کا منظر

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی تجویز پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی ہے، جس کے بعد اختیارات منتخب صوبائی حکومت سے گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ جمع کرائی تھی، جس کی روشنی میں یہ آئینی اقدام اٹھایا گیا ہے۔

تاریخی حقائق کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ تاریخ میں چوتھی بار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 1975ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کی مرکزی حکومت، 1994ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت اور 1999ء میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو معطل کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی عبوری انتظامیہ کے ساتھ صوبے کا انتظام چلائیں گے۔

اس منفرد آئینی اقدام کے تحت آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کا استعمال کیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی ہے۔ ان اضلاع میں 8 ضم قبائلی اضلاع بشمول خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی، باجوڑ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے علاوہ 4 جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنز میں ایمرجنسی کا نفاذ مکمل جبکہ پشاور، کوہاٹ اور ملاکنڈ ڈویژنز میں جزوی طور پر ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اس ممکنہ نفاذ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق اس اقدام سے صوبے میں سیاسی کشیدگی اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔