قومی اسمبلی کا اہم اجلاس،خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے تحریک پیش کی، اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی مخالفت کی گئی۔

October 14, 2026 · قومی
قومی اسمبلی کا اہم اجلاس،خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش

قومی اسمبلی کا اہم اجلاس،خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت میں ہے جب کہ اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے تحریک پیش کی، اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی مخالفت کی گئی۔

تحریک کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق کی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی، صدر مملکت کے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کی قرارداد طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی قرارداد پر بحث شروع ہوئی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے بعد اس کے نفاذ کا ڈیکلریشن دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوتا ہے، ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد ایمرجنسی کا نفاذ کیا، اندرونی خلفشار، سرحد پار سے دراندازی اور صوبے کی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس دن میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے، بہت سارے دوستوں نے اسے بارہ اکتوبر سے تشبیہہ دی، کابینہ میں اس معاملے پر سیر حاصل بحث کی گئی ، خیبرپختونخوا کے حالات ملکی سلامتی کے خطرہ بنتے جارہے تھے، کئی سالوں میں دہشتگردی کے اضافے کی وجوہات ہیں۔
افواج پاکستان اور پولیس نے قربانیاں دے کر کامیابی حاصل کی تھی، کامیابی کے باوجود حالات دوبارہ خراب ہوگئے، ایک سال میں 3700 سے زائد دہشت گرد واقعات ہوئے

وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضا ہے کہ صدر مملکت جب ایمرجنسی نافذکریں تو اس کی دس روز میں منظوری دونوں ایوانوں سے لینا ضروری ہے، ہمیں کہا گیا کہ بارہ اکتوبر 1999جیسی ایمرجنسی لگادی گئی ہے، ہمیں کہا گیا کہ گیارہ اکتوبر 2026کو بھی جمہوری حکومت کو ختم کرکے ایمرجنسی لگا دی گئی، کے پی کے میں دہشتگردی جس طرح سے بڑھی وہ سب کے سامنے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کو جو ہوا ملی اس کی وجہ سیاسی جماعت کی دہشتگردوں سے نظریاتی ہم آہنگی تھی، کابینہ کا اجلاس اڑھائی گھنٹے جاری رہا ، سال 2026سے 3787دہشتگردی واقعات ہوئے، سال 2021 سے لیکر 2024تک دہشتگردی کے بے شمار واقعات ہوئے، وزیر اعلی نے شہدا کے جنازوں میں شرکت کی بجائے سیاسی مقاصد کے لئے ملکی سطح پر دورے شروع کردیے، جب صورتحال ایسی ہوتو پھر ردعمل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔

وزیر قانون نے کہا کہ طرفہ تماشہ یہ بنا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا اعلان کردیا گیا، ہم نے جوابی چڑھائی کرنے کی بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، اسپیکر چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوئے،
ہماری اتحادی پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا، دوروز تک مذاکرات ہوتے رہے، پوری قوم نے دیکھا رات اڑھائی بجے تک ڈرافٹ پر ڈرافٹ بنتے رہے

ان کا کہنا تھا کہ ایک بات واضح تھی کہ انسداد دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے کیا پالیسی اختیار کی جائے، جواب میں کہا گیاکہ ہمارے لیڈر کو جیل میں کیا سہولیات دیں گے، جیل سہولیات کے بارے میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی تھی، جو کچھ بھی ہونا ہے وہ جیل رولز کے ذریعے ہونا ہے، اگر کچھ ہوسکتا تھا تو وہ عدالت ہی کرسکتی ہے، حکومت کے پاس صدر کے معافی دینے کا اختیار ہے، دوبارہ سر جوڑے گئے اور دہشتگردی کے خلاف کیسے لڑیں کی بات کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح کچھ اور تھی، انہوں نے ہمیں کہا کہ پہلے جیل میں آسانیاں دیں پھر اگلی بات کریں گے، ماضی میں بھی پی ٹی آئی نے جب دو صوبائی اسمبلیاں توڑیں تو پھر انہیں احساس ہوا کہ غلطی کر بیٹھے ہیں، اس معاملے پر مذاکرات شروع ہوئے تو بیک وقت پورے ملک میں الیکشن کرادینے پر اتفاق ہوا، طے ہوا کہ بجٹ پاس کیا جائے گا پھر الیکشن میں چلے جائیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا بوجھ بھی برداشت کیا، سب کچھ طے ہوگیا، شاہ محمود قریشی ان کی مذاکراتی ٹیم کو لیڈ کررہے تھے، شاہ محمود قریشی کو کال آئی ان کے لیڈر نے کہا کہ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے لیڈر نے مذاکرات کو ویٹو کردیا ہے۔

اپوزیشن رکن شفقت اعوان نے اعظم نذیر تارڑ کی تقریر میں مداخلت کردی، اعظم نذیر تارڑ نے شفقت اعوان کے خلاف طنزیہ فقرے کہے، شفقت اعوان نے کہا کہ ہم آپ کی طرح فارم 47پر یہاں نہیں آئے۔

اس دوران حمزہ شہباز شریف بھی ایوان میں پہنچ گئے جب کہ وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹوزرداری اور مولانا فضل الرحمان ایوان نہ پہنچ سکے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ رضاکارانہ فیڈریشن ہے، جو کہتے ہیں ہم امن لائینگے، انہوں نے 35سال حکومت کی، جنرل ایوب 10سال ،ضیاالحق11سال۔پرویز مشرف 11سال رہے، اس کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا، پاکستان کو آپ نے دہشت گردوں کا اڈا بنایا، دہشت گردوں کو یہاں تربیت دی جاتی رہی۔

اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف بھی ایوان میں پہنچ گئے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیر ستان میں آپ معدنیات پر قبضہ کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو مار رہے ہیں لوگ آپ کو مار رہے ہیں، سیدھی بات کریں، اس پارلیمنٹ میں کرسیاں لگائیں وزیر اعظم کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں، آپ کی حکومت غیر آئینی غیر قانونی ہے، آپ لوگوں کو دہشت زدہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کا وزیر اعظم کسی اور کو جواب دہ ہے اور وہ کسی اور کو جواب دہ ہے ، فاٹا میں بارہ سو سماجی شخصیات کو قتل کیا گیا، ایران جنگ کے باجود پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ اپنے لیڈر سے ملنے دو، کسی سے ملاقات نہ کرانا بہت بڑا مجرمانہ فعل ہے، آپ نے نواز شریف اور بینظیر کو بھی مجبور کیا، عمران خان سے ملاقات پر آپ کی بات اٹھک گئی تھی، وعدہ کرتے ہیں عمران سے ملاقات کی بات کسی کو نہیں کریں گے۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کے نفاذ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا حق ہے اس بات کی مخالفت کریں، آپ کی زمہ دارانہ قیادت ہے پی ٹی آئی کی حکومت نے پی ٹی آئی پر خودکش حملہ کیا، اگر آج آپ کی خبر پختونخوا میں حکومت نہیں اس پر صدر اور وفاقی حکومت پر الزام لگائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن جو حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئی ، گورنر کی رپورٹ اور وزیر اعظم کی سمری پر صدر کے دستخط نہ کرنے کا کوئی تو جواز دیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے پاس جب پہلے یا معاملہ تو فیصلہ کیا اس آئینی ایٹم بم کو استعمال کرنے سے پہلے مزاکرات کیے جائیں، مجھے رات کو بتایا گیا مزاکرات کامیاب ہو رہے ہیں، اپوزیشن کے ماننے کا امکان ہے، بتایا گیا جہاں دہشتگردی والے علاقوں کو دہشت گرد زدہ علاقہ ڈیکلیئر کرنے کے لیے تیار ہے، حکومت نے ہر ممکن کوشش کی یہ قدم نہ اٹھانا پڑے

بلاول بھٹو نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاز صدر مملکت کا آئینی حق ہے، وفاقی حکومت کے فیصلے کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا زمہدار سہیل آفریدی ہے، ہم نے حکومت کو تجویز دیدی ہے دوبارہ مذاکرات شروع کریں، اپوزیشن مذاکرات کے ٹیبل پر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ دار سیاسی جماعت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، حکومت سے کہتا ہوں مزاکث کے لیے ایک بار پھر ہاتھ بڑھائیں، درمیانہ راستہ نکالنے کے لیے مزاکرات کی طرف آنا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے حکومت کو اپوزیشن سے دوبارہ مزاکرات کی تجویز دی اور کہا کہ مجبوری میں ایمرجنسی لگائی ہمیشہ کے لیے نہیں، یہ صرف میرا ملک نہیں اپوزیشن کا بھی ملک ہے ، سیاست کو ایک طرف رکھیں ۔
دہشتگردی کا مقابلہ متحد ہوکر کرنا ہے، ہماری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے، ہم نے ایک فیصلہ لیا دن رات اس پر محنت کرینگے، دہشتگردوں کا مقابلہ کرینگے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی سپیس کم ہونے کے ذمہ دار اگر ہم ہیں تو آپ بھی ہیں، وزیراعلی کہتا ہے حکومت کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کروں گا، وزیر اعلیٰ نے کونسا پوائنٹ دیا تاکہ صدر دستخط نہ کر سکیں؟ حکومت اور اپوزیشن کو تجویز دیتا ہوں آئیں بات چیت کریں، ہم ہمیشہ کےلیے ایمرجنسی جاری نہیں رکھ سکتے، اگر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہے تو پورے کا رسپانس ہونا چاہیے
متحد ہوں تو دہشتگردی کی آگ بجھا سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ذمہ دارانہ اپوزیشن کے دہشتگردی کے خلاف کردار ادا کریں، ہم نے بھارت کے چھ جہاز گرائے اب وہ نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر نہیں رہا، مودی کہتا ہے کہ آپریشن سندور جاری ہے، بھارت آج بھی دہشتگردی کے واقعات اسپانسر کررہا ہے، پاکستان نے امریکا ایران مذاکرات کی بڑی زمہ داری اٹھائی، اگر ہم دو جماعتوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔