190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد ، تحریری فیصلہ جاری

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ سنایا۔

October 14, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ 

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ سنایا۔

سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ خاتون کے لیے عدالتوں نے ہمیشہ نرم گوشہ رکھا ہے، نیب کا کنڈکٹ 13 مہینوں میں قابل اعتراض رہا، نیب نے کئی سماعتوں پر التوا لیا، نیب نے سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ سزا کے بعد اب بشریٰ بی بی کی ضمانت کا قانونی جواز بن چکا ہے، بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے پر سزا معطلی مانگی، کیس میں سارا فوکس بانی کی اپیل پر رہا۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ میرٹ پر اس موقع پر نہ جائیں، عدالت کے سامنے سزا معطلی کا کیس ہے۔

تحریری فیصلہ جاری

وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی پر اپیل مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ 

چیف جسٹس امین الدین خان نے 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا کہ اپیل 61 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی، متفرق درخواست کے ذریعے استدعا کی گئی کہ تاخیر کا معاملہ درگزر کیا جائے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ تاخیر سے اپیل دائر کرنے کی وجہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل قید بتائی گئی، 61 دن کی تاخیر کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 30 اپریل کے حکم کو چیلنج کیا گیا۔ سلمان صفدر نے میاں نواز شریف کیس کا حوالہ دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں مرکزی اپیل پہلے مقرر کی جاچکی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں تحریر کیا کہ متوازی جائزے کے بجائے مرکزی اپیل کے فیصلے کو جلد یقینی بنایا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت اس سطح پر مناسب سمجھتی ہے کہ مداخلت نہ کی جائے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ توقع ہے کہ ہائیکورٹ مرکزی اپیل پر جلد فیصلہ کرے گی۔ امید ہے اسلام آباد ہائیکورٹ غیرضروری التوا کی حوصلہ شکنی کرے گی۔