محمود اچکزئی قسم کھاکر کہیں وہ فارم 47 والے نہیں ، محسن نقوی
سہیل آفریدی نے کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں ایک بار بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا گواراہ نہیں کیا ،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب
فائل فوٹو
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کو شش و پنج میں ڈالتے ہوئے ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ وہ اور ان کے دیگر اتحاد کے رہنما “فارم 47” کی پیداوار نہیں ہیں اور دھاندلی کے نتیجے میں ایوان میں نہیں آئے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل حکومت پر فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن کے کئی اپنے ارکان بھی اسی عمل اور انہی انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔
محسن نقوی نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی جمہوریت اور اصولوں کی باتیں کرتے ہیں، میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ سرعام قسم اٹھا کر کہیں کہ ان کی اپنی نشست اور ان کے اتحادیوں کی کامیابی فارم 47 کی مرہونِ منت نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کر دیتے ہیں تو پھر ان کے الزامات میں کوئی وزن سمجھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن دہرے معیار کا شکار ہے جہاں سے وہ خود جیتے ہیں وہاں انتخابات شفاف تھے اور جہاں سے مخالفین جیتے ہیں وہاں فارم 47 کا سہارا لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام کر رہی ہے اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرے نہ کہ صرف بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سیاست کرے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے سہیل آفریدی نے کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں ایک بار بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا گواراہ نہیں کیا اور ہر بار کہا کہ سیاسی طور پر آپریشن افورڈ نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم گورنر راج لگانے کے بالکل بھی قائل نہیں تھے، ہم نے پوری کوشش کی کہ کے پی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہو، ہم چاہتے تھے کہ یہ لڑائی خیبرپختونخوا کی لڑائی ہے بس آپ لیڈ کریں مگر کے پی حکومت لیڈ کے لیے تیار نہیں تھی، اور نہ کبھی انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی، تمام پریس ریلیز نکلوالیں کہیں مذمت نہیں ملے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سہیل آفریدی سے کئی بار ملا، ہم نے طے کیا کہ پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط کریں گے تاکہ وہ کارروائی کرسکے، یہ بات سہیل آفریدی سے میں نے مل کر خود طے کی تھی مگر بعد میں انہیں کون ہدایات دیتا ہے یہ الگ بات ہے۔مذاکرات سے اٹھ کر ہم نہیں گئے، ہم نے کوئی ٹائم لمٹ بھی نہیں دی، مذاکرات ہر بار ہم نے آکر کیے، انہوں ںے ایک کاغذ لہرایا اور کہا کہ اس میں موجود تمام شرائط کے پی حکومت کی تھیں جو ہم نے مانیں آخری لائن ہماری تھی، لانگ مارچ بھی ہم نے کہا کرلیں۔جب موقع ملے سہیل آفریدی سے پوچھیں جب بھی کے پی کے لیے پیسوں کا مسئلہ آیا میں سی ایم کو لے کر وزیراعظم کے پاس گیا، ان کا ایک ایک مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، آخری گھنٹے تک ہماری کوشش تھی کہ ان بارہ اضلاع میں ایمرجنسی نہ لگے۔یہ ابھی سے نہیں ہے ہم نے اگست ستمبر یا اس سے پہلے بھی ہی کوشش کہ کہ کے پی حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون کرے مگر وہ راضی نہ ہوئی اور نہ آپریشن کو انہوں نے اون کیا۔
انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی کہ پی ٹی آئی کے بڑے آئیں اور بات کریں اور وہیں فیصلہ کریں، آپ بھی اختیار لے کر آئیں ہم بھی اپنے پی ایم سے اختیار لے کر آٗئیں گے اور جو بات ہوگی وہیں ہوگی یہ نہیں ہوگا کہ ہم پوچھ کر آتے ہیں۔مذاکرات کے کچھ پوائنٹ پڑھے اور کہا کہ پہلا پوائنٹ اپوزیشن لیڈرز اور وزیراعظم کی ملاقات کا تھا، دوسرا پوائنٹ سیاسی کمیٹی کی تشکیل تھی، تیسرا یہ کہ جس کا جو قانونی حق ہے اسے دیا جائے جس میں علاج اور ملاقاتیں شامل ہیں، چوتھا پوائنٹ کے پی میں دہشت گردی میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا تھا یہ پی ٹی آئی کی حکومت کا ہی بنایا ہوا تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے پر دل اداس ہے ہمیں بالکل بھی خوشی نہیں، پشاور میں جنازوں میں ہم جاتے تھے مگر صوبائی حکومت کے بندے نہیں آتے تھے یہ نہ کہا جائے کہ ہم نے دہشت گردی کو مس یوز کیا، بنوں میں جوانوں کی شہادت ہوتی ہے اور اگلے دن وزیراعلیٰ فوج کے خلاف تقریر کرتا ہے۔